28 مئی 2012 - 19:30

اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان جناب رامین مہمان پرست نے آج دارالحکومت تہران میں ملکی و غیر ملکی نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے جمہوریہ آذربائیجان کے حکام کو صلاح دی ہے کہ وہ افراد کے حقوق اور پڑوسیوں میں خوشگوار تعلقات کے پیش نظر عوامی احساسات مجروح کرنے کی کوشش نہ کریں ۔

ابنا: انھوں نے جمہوریہ آذربائیجان میں اسلامی جمہوریہ ایران کے مقدسات کی بے حرمتی اور رہبر معظم انقلاب اسلامی کے نمائندے کے داخلے کی روک تھام کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے باکو کے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس طرح کی سازشوں کو کنٹرول کریں ۔ ایران کے دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ ہم نے اس سے قبل بھی اعلان کیا ہے کہ شاید صہیونی ریاست اور وہ عناصر جو عالم اسلام کے مفادات کے خلاف ہیں اور ہمیشہ فتنہ انگیزی کے درپے رہتے ہیں علاقائی ملکوں کے درمیان اچھے تعلقات دیکھنا کبھی پسند نہیں کرتے اسلئے علاقائی ملکوں کے حکام کی جانب سے ہوشیاری کا مظاہرہ اور منطق بروئے کار لائے جانے کی ضرورت ہے ۔

رامین مہمان پرست نے اسی طرح بغداد میں ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے مذاکرات کا جائزہ اور مذاکرات کا اگلا دور ماسکو میں منعقد ہونے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ترک اسلحہ اور ہتھیاروں کا عدم پھیلاؤ تمام ملکوں کے درمیان تعاون کیلئے ایک مشترکہ موضوع ہونا چاہئے اور جوہری توانائی کے مسئلے میں تمام ملکوں کو ان کے حقوق سے بہرہ مند کرنے کیلئے بہترین بنیاد این پی ٹی معاہدہ بن سکتا ہے جو اس بات کو بخوبی واضح کرتا ہے کہ پرامن جوہری سرگرمیاں کن خصوصیات کی حامل ہوتی ہیں؟ اور اس سلسلے میں آئی اے ای اے اور دیگر ملکوں کے کیا فرائض ہیں؟ اور یہ کہ ایران اپنے حقوق سے زیادہ کچھہ نہیں چاہتا اور نہ ہی وہ اپنے حقوق سے کچھہ کم کئے جانے کی اجازت دیگا ۔

اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان جناب رامین مہمان پرست نے مزید کہا کہ ماسکو میں مذاکرات جاری رکھنے کیلئے فریقین کا فیصلہ ایک مثبت قدم ہے ۔ انھوں نے اسی طرح شام میں حالیہ بم دھماکوں اور اس ملک کے امور میں اقوام متحدہ نیز عرب لیگ کے نمائندے کوفی عنان کے دورۂ دمشق کی کامیابی کے بارے میں بھی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شام کے مسائل پورے علاقے کی سلامتی پر اثر انداز ہوسکتے ہیں اور جو اس ملک میں بدامنی و عدم استحکام کے خواہاں ہیں وہ اپنے خاص سیاسی مقاصد کے درپے ہیں ۔

ایران کے دفتر خارجہ کے ترجمان نے مشرقی سعودی عرب میں آٹھہ ایرانی ملاحوں کی گرفتاری اور بعض ذرائع کے مطابق انھیں پھانسی دئے جانے کے بارے میں کئے جانے والے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ سعودی عرب میں ان ایرنی شہریوں سےمنشیات برآمد کئے جانے کے الزام میں بعض ایرانی شہریوں کی گرفتاری کے سلسلے میں اس ملک کے حکام کے ساتھہ رابطہ برقرار کرکے مسئلے کا جائزہ لیا جارہا ہے اور ریاض حکومت سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ گرفتار کئے جانے والے ایرانی شہریوں تک ایرانی سفارت کاروں کی دسترسی کی راہ ہموار کریں گے اور یہ بھی امید ہے کہ مناسب اقدامات کے تحت جلد ہی ان کی رہائ اور وطن واپسی کا مشاہدہ کیا جائیگا ۔

انھوں نے کویت میں بھی چار ایرانی شہریوں کو جیل میں بند کئے جانے کی خبر کے بارے میں کہا کہ یہ بات قابل افسوس ہے کہ شہریوں کے حقوق کی پابندی کے کنوینشن میں رکنیت رکھنے کے باوجود کویت کی حکومت نے ان ایرانی قیدیوں تک ایرانی سفارتکاروں کی دسترسی کیلئے کوئی تعاون نہیں کیا اور اس سلسلے میں کئے گئے بےبنیاد دعوے حیرت انگیز ہیں۔

اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان جناب رامین مہمان پرست نے مصر میں حسنی مبارک کی حکومت کے زوال کے بعد ہونے والے پہلے صدارتی انتخابات کے انعقاد کے بارے میں بھی کہا کہ یہ انتخابات اور ان میں عوام کی شرکت اس ملک کیلئے ایک کامیابی ہے اور مصر میں جو لہر اٹھی تھی وہ اب مکمل ہونے والی ہے اور مصری عوام کی ہوشیاری سے ان انتخابات کے جو اس ملک میں عوامی حکومت کی تشکیل پر منتج ہوسکتے ہیں قابل قبول نتا‏ج برآمد ہوں گے ۔.......

/169