ابنا: پاکستان کی سپریم کورٹ نے انھیں 26/ اپریل کو پاکستان کی عدالت عالیہ کے فیصلے پر عملدرآمد نہ کرنے کا مجرم قرار دیا تھا اسلئے کہ پاکستان کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے سوئیس عدالت میں پاکستان کے صدر آصف علی زرداری کے خلاف کیس ری اوپن کرنے کے حوالے سے خط لکھنے سے متعلق پاکستان کی سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل کرنے سے انکار کردیا تھا۔ پاکستان کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کا کہنا تھا کہ آئین کی رو سے صدر مملکت کو قانونی تحفظ حاصل ہے۔ پاکستان کے وزیر اعظم کے خلاف اس ملک کی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد یوسف رضا گيلانی کو اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے کیلئے ایک ماہ کی مہلت دی گئی تھی جو کل 26/ مئی کو ختم ہوگئی ۔ پاکستان کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کی جانب سے اپیل دائر نہ کئے جانے کی مختلف وجوہات بتائی جاتی ہیں ۔ اگر چہ انھیں پاکستان کی عدالت عالیہ کا فیصلہ نہ ماننے کا مجرم قرار دیا گیا مگر ان کیلئے جو سزا معین کی گئی وہ صرف کمرۂ عدالت تک محدود رہی تاہم اگر انھیں جیل کی سزا ہوتی تو وہ اپنے خلاف فیصلے پر اپیل دائر کرنے پر مجبور ہوجاتے مگر ایک منٹ سے بھی کم کمرۂ عدالت میں حراست میں رکھے جانے کی سزا نے اپیل کی ضرورت کو ختم کردیا۔
پاکستان کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے خلاف سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد کے بعد ان کے مخالفین یہ امید کررہے تھے کہ یوسف رضا گیلانی کو عدالت کی جانب سے مجرم قرار دئے جانے کی بناء پر پاکستان کی پارلیمنٹ انھیں وزارت عظمی کے عہدے کیلئے نااہل قرار دیدے گی مگر پاکستان کی قومی اسمبلی کی اسپیکر نے ایسا کچھہ نہیں کیا ۔ پاکستان کے بنیادی آئین کی شق نمبر 63 کے مطابق اس ملک کے پارلیمانی اسپیکر کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ ملک کے وزیر اعظم کو عدالت کی جانب سے مجرم قرار دئے جانے بعد ایک مہینے کے اندر وزیر اعظم کی اہلیت کے بارے میں اپنے فیصلے کا اعلان کرے ۔ پاکستان کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے خلاف سپریم کورٹ کے فیصلے پر ان کی اہلیت مسترد نہ کئے جانے کے بارے میں اس ملک کی قومی اسمبلی کی اسپیکر فہمیدہ مرزا کا موقف بھی اس بات کا موجب بنا ہے کہ وزیر اعظم نے اپیل دائر نہیں کی ۔ بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی اور اس ملک کی سپریم کورٹ کے درمیان حالیہ قانونی جنگ میں یوسف رضا گيلانی کو فتح حاصل ہوئي ہے ۔ اس بات کی بھی قیاس آرائی کی جارہی ہے کہ یوسف رضا گيلانی کے بارے میں سپریم کورٹ کے کمزور فیصلے سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ وزیر اعظم کے اس استدلال کے پیش نظر کہ بنیادی آئین کی رو سے صدر مملکت کو قانونی تحفظ حاصل ہے پاکستان کی سپریم کورٹ بھی کوئی ٹھوس فیصلہ کرنے سے قاصر رہی ہے ۔ ایسی صورت حال میں پاکستان کی عدالت عالیہ صرف اس بناء پر کہ وزیر اعظم کو بری بھی نہ کیا جائے اور خود عدالت پر سیاسی فیصلے کا الزام بھی نہ لگے ایک منٹ سے بھی کم مدّت کیلئے حراست میں رکھے جانے کا فیصلہ سناکر ان کی فائل میں صرف ارتکاب جرم کا نکتہ شامل کرنے میں کامیاب ہوسکی ہے ۔....... /169