ابنا: اس اجلاس کا مقصد انسانی امداد کے شعبے میں تعاون میں عجلت۔ امداد پہنچانا۔ دہشتگردی کے خلاف مہم اور علاقائی امن کے تحّفظ کیلئے کاروائی جیسے مسائل کا جائزہ لینا قرار دیا گيا ہے جبکہ انسان اور منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف مہم۔ سمندروں میں سیکیورٹی کی فراہمی اور اس قسم کے تعاون کے فروغ کیلئے حالات سازگار بنانا بھی ایسے مسائل ہیں کہ اس اجلاس میں جن کا جائزہ لیا جائیگا۔ کمبوڈیہ ایک چھوٹاسا اور غیر ترقی یافتہ ملک ہے تاہم آسیان میں وہ بھی سرد جنگ کے بعد اس کی رکنیت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ یہ ملک اپنی ترقی کا راستہ تلاش اور اس راستے میں اہم قدم اٹھا سکتا ہے اور اس رو سے کمبوڈیہ میں ماضی میں منعقدہ آسیان کے سربراہی اجلاس اوراسی طرح موجودہ قسم کےاجلاس جنوب مشرقی ایشیاء میں اس ملک کی سیاسی پوزیشن بہتر بنا سکتے ہیں ۔
یہی وجہ ہے کہ اس اجلاس کے میزبان کی حیثیت سے پنوم پن کی حکومت نے ایسے اختلافات بڑھنے سے روکنے کیلئے جو علاقائی امن و استحکام کیلئے خطرہ شمار ہوتے ہیں شریک ملکوں کی توانائی بڑھائے جانے کی ضرورت پر تاکید کی ہے ۔ پنوم پن کے دفاعی اجلاس میں امریکہ ۔ روس ۔چین ۔ہندوستان اور جاپان جیسے ملکوں کے دفاعی حکام کی شرکت ایک ایسےعلاقے میں امن کے حوالے سے ان ممالک کی تشویش اور حسّاسیت کی ترجمان ہے کہ امریکہ۔ روس۔چین ہندوستان اور جاپان کے سرمایہ کاروں کے بقول جہان امن کے فقدان کی بناء پر انھیں بیرون ملک اہم قومی مفادات سے ہاتھہ دھونا پڑ جائیگا۔ بلا شبہ مختلف اور خاصطور سے امن کے بارے میں دستخط شدہ سمجھوتوں پرعملدرآمد سے تنظیم آسیان اور اس کے علاقائی شرکاء اپنی متحدہ کوششوں سے درپیش مسائل و مشکلات کا مقابلہ کرسکتے ہیں۔
اس وقت یہ سوال بھی درپیش ہے کہ اگر مثال کے طور پر تجارت کیلئے سمندری راستے کھلے ہوں تو اس صورت میں کیا صرف طاقتور ممالک ہی ان راستوں سے استفادہ کرسکتے ہیں؟ یا پھر علاقے کے چھوٹے چھوٹے ممالک بھی ان راستوں سے فائدہ اٹھا سکیں گے؟ ممکنہ طور پر پنوم پن میں اس اجلاس کو ایک ایسا اجلاس قرار دیا جاسکتا ہے جو صرف باتوں سے ہٹ کر عملی اقدامات کا خواہاں ہے مگر امریکہ کے ساتھہ فلپائن کی مانند بعض ملکوں کی حد سے زیادہ مفاہمت ہمیشہ کی طرح آسیان کو اپنے مقاصد کے حصول سے محروم کرسکتی ہے اسلئے کہ چین کے جنوبی سمندر میں اسپریٹلی جزائر پر اپنی ملکیت کے ایک دعویدار ملک کی حیثیت سے فلپائن نے اس علاقے میں امریکہ کے ساتھہ فوجی تعاون کی راہ ہموار کردی ہے۔
اسی طرح ان غریب ملکوں کے ماہی گیروں کے ساتھہ جو اس سمندر میں خوراک کے ذرائع سے استفادے کو اپنا بھی حصّہ سمجھتے ہیں بعض طاقتور ملکوں کے ساحلی گارڈز کا رویّہ عملی طور پر اس علاقے میں ان ملکوں ایک دوسرے کے مقابلے میں لاکھڑا کردیتا ہے۔علاوہ ازیں اس علاقے کے گیس کے ذخائر تک بعض ملکوں کی دسترسی اور ان ممالک کی جانب سے ان ذخائر کا بے تحاشہ غیر قانونی استعمال ان ملکوں کے درمیان بڑے تنازعات میں تبدیل ہوجاتا ہے اس رو سے یہ سب مسائل ایشیاء میں آسیان اور شریک ملکوں کیلئے درپیش اہم مسائل و مشکلات ہیں۔ چنانچے آسیان کے مرحلے وار چیئرمین ملک کی حیثیت سے کمبوڈیہ فطری طور پر ذمہ داریوں میں شراکت بڑھانے کی کوشش کررہا ہے تاکہ شریک ملکوں کی سیکیورٹی اور دفاعی مفاہمت کے ذریعے پیچیدہ مسائل کے حل کیلئے مناسب راہ تلاش کی جاسکے ۔....... /169