21 مئی 2012 - 19:30

عرب ہیومین رائٹس کے انفارمیشن نیٹ ورک نے ایک بیان میں انکشاف کیا ہے کہ آل سعود نے ایک شیعہ راہنما، کامل عباس الاحمد کو گرفتار کرلیا ہے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ  کی رپورٹ کے مطابق کامل عباس الاحمد، واشنگٹن میں مقیم سعودی اپوزیشن راہنما اور پرشین گلف اسٹڈیز سینٹر کے ڈائریکٹر علی عباس الاحمد کے بھائی ہیں اور عرب ہیومین رائٹس کے انفارمیشن نیٹ ورک نے ان کی گرفتاری پر آل سعود کر جابرانہ اقدامات کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ عرب ہیومین رائٹس کے انفارمیشن نیٹ ورک نے اپنے بیان میں آل سعود کی طرف سے انسانی حقوق اور جمہوریت کے حامی راہنماؤں کے خلاف غیرقانونی اقدامات اور ملک میں کسی بھی قسم کی اصلاحات اور تبدیلی نہ لانے نیز دینی اقلیتوں اور خواتین کے سلسلے میں نسل پرستانہ پالیسیوں کے نفاذ کی شدید مذمت کی ہے۔ اس بیان میں آیا ہے کہ سعودی آمریت دنیا کی مطلق العنان ترین اور جابرترین آمریت ہے اور دنیا نیز علاقے میں جو لوگ انسانی حقوق اور جمہوریت کو اہمیت دیتے ہیں ان کو اس آمریت پر دباؤ بڑھا کر بلادالحرمین کے عوام اور اس ملک میں مقیم بیرون ملک باشندوں کو اس کے ظلم و ستم سے بچانے کے لئے فوری طور پر متحرک ہونا چاہئے اور اس ملک کو دنیا کی سب سے بڑی جیل میں بدلنے کی سعودی کوششوں کا سب باب کرنا چاہئے۔ عرب ہیومین رائٹس کے انفارمیشن نیٹ ورک نے واضح کیا ہے کہ عرب اور غیر عرب ممالک کو سعودی نظام حکومت پر دباؤ بڑھانا چاہئے تا کہ وہ انسانی حقوق اور شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے حوالے سے اپنی افسوسناک کو بہتر کردے۔عرب ہیومین رائٹس کے انفارمیشن نیٹ ورک کے بیان کے مطابق آل سعود کے گماشتوں نے حال ہی میں کامل عباس الاحمد کو کوئی وجہ بتائے بغیر گرفتار اور نامعلوم مقام پر منتقل کیا ہے۔واضح رہے کہ کامل عباس الاحمد کو اس سے قبل بھی فرد جرم عائد کئے بغیر آل سعود کی نام نہاد عدلیہ نے 9 سال قید کی سزا سنائی تھی اور ڈیڑھ سال تک ملک سے باہر جانے سے منع کئے جاتے رہے تھے۔ علی عباس الاحمد ایک شیعہ سیاسی راہنما ہیں جنہوں نے 2009 میں شیعیان اہل بیت (ع) کے خلاف سابق امام مسجدالحرام عادالکلبانی کے تکفیری موقف کی اعلانیہ مذمت کی تھی اظہار خیالات کی مذمت کی تھی۔

111

اور ایک بار بلاد الحرمین کے بعض دانشوروں کے ساتھ مل کر ایک مشترکہ بیان میں اہل تشیع کے خلاف جاری ہونے والے تکفیری فتؤوں کی ذمہ داری آل سعود کے حکمرانوں پر عائد کی تھی اور کہا تھا کہ آل سعود شیعہ مکتب اور دیگر اقلیتی مکاتب سے فکری اختلاف رکھتے ہیں اسی بنا پر ان کے خلاف فتوے دلوا رہے ہیں۔دریں اثناء اس کے باوجود کے کامل عباس الاحمد کی گرفتاری کا سبب معلوم نہيں ہے بعض مقامی ذرائع نے خیال ظاہر کیا ہے کہ گویا انہيں امریکہ میں مقیم بھائی علی عباس الاحمد پر دباؤ بڑھانے اور ان کو آل سعود پر کھلی تنقید سے روکنے کی غرض سے گرفتار کیا گیا ہے!۔آل سعود نے اس سیاسی راہنما کو ایسے حال میں گرفتار کرلیا ہے کہ آل سعود کو بیرونی دنیا میں متعدد مشکلات کا سامنا ہے؛ بحرین کو سعودی عرب میں ضم کرنے کا منصوبہ ناکام ہونے کو ہے، شام میں سعودی ریشہ دوانیاں ناکام ہوتی نظر آرہی ہیں، لبنان میں حالیہ بدامنی میں سعودیوں کا ہاتھ واضح ہوچکا ہے اور اندرونی طور پر پورے ملک بالخصوص الشرقیہ کے شیعہ اکثریتی علاقوں میں عوام کے جمہوری اور اصلاحاتی مطالبات زور پکڑتے جارہے ہیں اور سعودی عرب کے اندر "حزب الامہ" نے اعلان کیا ہے کہ اس ملک میں عمومی اور ملک گیر انقلاب عنقریب شروع ہونے والا ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/110