18 مئی 2012 - 19:30

آیت اللہ شیخ عیسی قاسم: بحرینی عوام بچے اور احمق نہيں ہيں/ شیخ قاسم کے خطبے کی جھلکیاں /عوام کی جانب سے الحاق کا منصوبہ مسترد/ کرائے کے خلیفی گماشتوں کے 24 علاقوں پر حملے/ الحاق بحرین کی سازش؛ پس پردہ عوامل کا انکشاف/ خاتون نامہ نگار پر خلیفیوں کا تشدد/ امارات اور دوسری ریاستوں کو ہڑپ کرنے کا سعودی منصوبہ/ انقلاب کو کچلنے کے لئے ملک کو بيچنے نہيں دیں گے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق آل سعود نے اتحاد کے نام پر بحرین کو ضم کرنے کی جو سازش تیار کی ہے وہ فی الحال ناکام نظر آرہی ہے کیونکہ ریاض میں منعقدہ خلیج فارس تعاون کونسل کے حالیہ اجلاس میں اکثر ریاستوں نے اپنے مستقبل کو مد نظر رکھ کر سعودی عرب سے بحرین کے الحاق کے منصوبے کی مخالفت کی ہے۔ ــ آیت اللہ شیخ عیسی قاسم: بحرینی عوام بچے اور احمق نہيں ہيںعلمائے بحرین کی شوری کے سربراہ آیت اللہ شیخ عیسی احمد قاسم نے "الدراز" کی امام صادق (ع) مسجد میں نماز جمعہ کے خطبوں کے ضمن میں کہا انضمام اور الحاق کا منصوبہ، جس کو بظاہر <اتحاد> کا نام دیا گیا ہے، درحقیقت علاقے کے سربراہوں کا اتحاد ہے نہ کہ ملتوں اور قوموں کا اتحاد۔ اطلاعات کے مطابق آیت اللہ شیخ عیسی قاسم نے الدراز کی مسجد امام صادق (ع) میں نماز جمعہ کے خطبوں کے ضمن میں اقوام کے حق تلفی اور اتحاد جیسے منصوبوں میں ان کی رائے نہ پوچھنے کے خلیفی ـ سعودی رویے کی مذمت کرتے ہوئے کہا: یہ ظالمانہ اقدام تمام علاقائی اور بین الاقوامی معاہدات اور ممالک کے قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ انھوں نے کہا: اقوام کی رائے پوچھے بغیر اس طرح کا کوئی اتحاد قائم نہیں کیا جاسکتا۔ عوام چوپائے یا بچے یا نادان تو نہيں ہیں جن کی رائے کو نظر انداز کیا جاسکے اور انہیں دیوار سے لگایا جاسکے؛ یا ان سے احتحجاج کا حق چھینا جاسکے۔ بعض حکومتوں نے اس منصوبے کی مخالفت کا اظہار کیا پس قوموں کو کیوں مخالفت کا حق نہيں دیا جاتا؟ بحرینی قوم کو پورا پورا حق حاصل ہے کہ اس اتحاد پر اعتراض کرے یا حتی اس کے ساتھ اتفاق کرلے کیونکہ اس مسئلے کا براہ راست تعلق بحرینی قوم سے ہے۔ شیخ عیسی قاسم نے بحرین میں تعمیر نو ہونے والی مساجد ـ بالخصوص مسجد ابوطالب (علیہ السلام) ـ کو آل خلیفہ کے گماشتوں کے ہاتھوں دوبارہ انہدام جیسے غیر انسانی، غیر مہذب اور غیر اسلامی اقدام کی مذمت کی۔سعودی عرب سے بحرین کے الحاق کے سعودی انگریزی منصوبے پر آیت اللہ شیخ عیسی قاسم کے رد عمل کی جھلکیاں ملاحظہ ہوں:آیت اللہ شیخ عیسی احمد قاسم نے نماز جمعہ کے خطبوں میں بحرین سعودی اتحاد کے برطانوی ـ سعودی سازش کا جائزہ لیتے ہوئے کہا: یہ ظالمانہ اقدام عقل،  عرف عام اور بین الاقوامی رویوں نیز بحرین کے آئین کے مطابق باطل ہے اور آل خلیفہ حکومت کی طرف سے عوامی رائے کو نظر انداز کرنے کی پالیسی ملت بحرین کے حق کو ختم نہیں کرتی بلکہ عوام کو مکمل اختیار اور حق ہے کہ اس منصوبے کی مخالفت کریں یا پھر اس کی مخالفت کریں کیونکہ ملت بحرین بچپن کے مرحلے سے نہيں گذر رہی اور احمق و نادان بھی نہیں ہے جس سے رائے دہی کا حق چھینا جاسکے۔ــ اس اتحاد کے بارے میں چند سادہ سے سوالات اٹھتے ہیں:ـ یہ اتحاد کس کی طرف سے ہے اور کون کس کے ساتھ متحد ہورہا ہے؟ ـ یہ اتحاد حکومتوں کا ہے یہ اقوام کا؟ یا حکومتوں اور ملتوں کا مشترکہ اتحاد ہے؟ـ کیا اس اتحاد میں سے کچھ حصے کا تعلق ملتوں سے بھی متعلق ہے؟ یا یہ کہ اس اتحاد کا ملتوں سے کوئی تعلق نہيں ہے؟ـ کیا یہ اتحاد عوام کے مفاد میں ہے؟ ـ کیا یہ اتحاد بحرینی قوم کے حال اور مستقبل پر اثر انداز ہوگا؟ ــ ظاہر ہے کہ یہ اتحاد ملتوں کا اتحاد نہیں ہے کیونکہ اگر اس کا تعلق ملتوں اور قوموں سے ہوتا تو قوموں کو بے خبر رکھ کر دیوار سے نہ لگایا جاتا!ــ یہ جو اتنے اہم مسئلے میں ملتوں کو دیوار سے لگایا گیا ہے اور ان کی رائے اور ارادے کو نظر انداز کیا گیا ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آل خلیفہ اور آل سعود کی حکومتیں اپنی قوموں سے بالکل الگ تھلگ ہیں اور ان حکومتوں کا عوام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ــ یہ ظالمانہ اقدام عقل، بین الاقوامی عرف اور بحرین کے آئین سے متصادم اور باطل ہے۔ بعض لوگ دوسروں پر ظلم کرتے ہيں لیکن اس ظلم کو چھپا کر رکھنے کی کوشش کرتے ہیں اور جب ان کا ظلم برملا ہوجاتا ہے تو ایک عظیم دھاندلی کا سہارا لیتے ہیں اور اس دھاندلی کو مختلف نام دیتے ہیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہيں ہے۔ یہ وہی چیز ہے جس پر تمام طاغوتی حکومتوں کا اتفاق ہے۔ ــ آل خلیفہ کا تجاہل ملت بحرین کے حق کے خاتمے کا سبب نہيں بنتا اور لوگوں کو مکمل آزادی اور اختیار ہے اس منصوبے کی مخالفت کریں یا حتی اس سے اتفاق کرلیں۔ کیونکہ ملتیں گائے بیلوں اور بھیڑوں کا ریوڑ نہيں ہیں، ملت بحرین بچپن کے مرحلے میں نہيں ہے اور لوگ احمق اور نادان نہيں ہیں جن سے حق رائے سلب کیا جاسکے۔ ــ ایسے حال میں کہ بعض ریاستوں کے حکمرانوں نے اس منصوبے کی مخالفت کی ہے سوال یہ ہے کہ عوام کو اس منصوبے کی مخالفت اور اس پر اعتراض کرنے کا حق کیوں نہيں دیا جاتا؟ ـ آمرین ہمیشہ عوامی رائے کے مد مقابل آکھڑے ہوتے ہيں کیونکہ وہ مطلق العنان اور بے چون و چرا فرمانروائی کے شیدائی ہیں۔ وہ ہمیشہ اصلاحات کے جھوٹے نعروں اور دعؤوں اور مہمل پارلیمانوں کے قیام کے ذریعے عوام اور عالمی رائے عامہ کو دھوکا دیتے ہیں۔ عالمی اہل بیت (ع) کی شورائے عالی کے بحرینی رکن نے آل خلیفہ حکومت کے ہاتھوں انہدام مساجد کے نئے مرحلے کے آغاز اور تعمیر نو ہونے والی "مسجد ابوطالب (ع)" کے دوبارہ انہدام کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا: ال خلیفہ حکومت کی جانب سے مساجد اور مقدس مقامات کے انہدام کا نیا مرحلہ افسوسناک ہے اور ہدم مساجد آل خلیفہ خاندان کی اقدار کا حصہ بن چـکا ہے اور لگتا ہے کہ حکمران خاندان مساجد کو شہید کرکے اللہ کی قربت حاصل کررہا ہے!!!۔ــ بحرین: عوام نے الحاق کے منصوبے کی مخالفت کردیبحرین سے موصولہ اطلاعات کے مطابق بحرینی عوام نے جمعہ کے روز زبردست احتجاجی ریلیوں اور مظاہروں کا اہتمام کرکے سعودی عرب سے بحرین کے الحاق کے برطانوی ـ سعودی سازش کی مخالفت کردی۔ اطلاعات کے مطابق بحرینی عوام نے دارالحکومت منامہ کی مرکزی شاہراہ "البدیع" پر عظیم ریلی منعقد کرکے اپنے ملک کے سعودی عرب سے الحاق کی مخالفت کردی۔ یہ ریلی مختلف اپوزیش جماعتوں اور چودہ فروری انقلابی اتحاد کی کال پر منعقد ہوئی۔عینی گواہوں کا کہنا تھا کہ بحرین کے نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں نے بحرین کا سرخ و سفید پرچم زیب تن کرکے اس ریلی میں شرکت کی تھی۔ ریلی کے شرکاء اتحاد یا الحاق کی سعودی بادشاہ عبداللہ بن عبدالعزیز کی شرارت آمیز تجویز کی مخالفت میں نعرے لگا رہے تھے جن میں قابل ذکر نعرے کچھ یوں تھے:سعودیوں کے ساتھ اتحاد، نامنظوربحرین بکاؤ مال نہيں ہےہماری سرزمین کو نیلام نہيں کیا جاسکتاریلی کی قیادت آل خلیفہ کی اپوزیشن جماعتوں کے جانے پہچانے راہنما کررہے تھے۔کل کی ریلی کی ایک خاص بات یہ تھی کہ شرکاء بحرین کے پانیوں سے پانچویں امریکی بحری بیڑے کے فوری انخلاء کا مطالبہ کررہے تھے جبکہ وہ سعودی قابضین کے انخلاء کے سلسلے میں بھی نعرے لگا رہے تھے۔ ــ بحرین: سعودی افواج کے حمایت یافتہ کرائے کے خلیفی گماشتوں کے 24 علاقوں پر حملےآل خلیفہ کے کرائے کے بیرونی گماشتوں نے سعودی قابض افواج کی حمایت سے بحرین کے 24 علاقوں پر حملے کرکے حتی کہ اسکولوں کے طلبہ کو کچل دیا۔ اطلاعات کے مطابق بحرین کی قومی جمہوری جمعیت کے سیکریٹری جنرل "محمد جاسم الدرازی" نے کہا: بحرینی انقلابیوں اور آل خلیفہ مخالف سیاسی جماعتوں نے خلیفی حکمرانوں کے تشدد آمیز حملوں کے باوجود اپنی پر امن احتجاجی تحریک کو جاری رکھتے ہوئے عوام کے جائز مطالبات پر تاکید کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ آل خلیفہ نے جمعہ کے روز حتی احتجاج کرنے والے اسکولوں کے بچوں تک کو کچل ڈالا لیکن بحرینی انقلابیوں کی مانند اسکولوں کے بچوں کے پائے ثبات میں بھی لغزش نظر نہيں آئی۔ الدرازی نے کہا: ہماری تحریک فعال اور پورے بحرین میں جاری آل خلیفہ حکومت کی پرتشدد کاروائیوں کے باوجود جاری و ساری ہے۔انھوں نے کہا: ہم آل خلیفہ حکومت کے اس دعوے کو مسترد کرتے ہیں کہ "ملک میں تناؤ کے خاتمے کی فضا قائم کی گئی ہے" کیونکہ آل خلیفہ حکومت ایک "سیکورٹی اقدامات ـ ٹارچر" کی حکمت عملی کے تحت انقلابی عوام کو تشدد کا نشانہ بناتی اور قتل کرتی ہے اور دشمن حکومت اور قابض افواج کا رویہ اپنا کرملک پر اپنے رویئے نافذ کررہی ہے۔ انھوںن ے کہا کہ آل خلیفہ کے کرائے کے بیرونی گماشتوں نے کل جمعہ کے روز بحرین کے 24 علاقوں پر حملے کئے اور انھوں نے حتی پرامن احتجاج کرنے والے اسکولوں کے بچوں تک کو حیوانی تشدد کا نشانہ بنایا جبکہ ہرروز صبح اسکولوں کا یونیفارم پہنے بچوں کو گرفتار کیا جاتا ہے اور انہيں اسی حال میں اذیتکدوں میں منتقل کیا جاتا ہے۔ انھوں نے کہا: بحرین کے افق میں ایسی کوئی چیز نہیں ملتی جو بحرین میں امن و سکون کا باعث بن سکے؛ مساجد کو شہید کرنے کا نیا مرحلہ شروع ہوچکا ہے اور لگتا ہے کہ خلیفی حکومت کے اہلکار ملک میں اپنے عوام دشمن اقدامات کو مزید شدت دینے کا ارادہ رکھتی ہے اور خلیفی حکمرانوں کا خیال ہے کہ گویا وقت ان کے حق میں ہے لیکن ہم اپنا انقلاب جاری رکھیں گے اور شہداء کا نذرانہ پیش کرتے رہیں گے اور خلیفی حکومت کے خلاف احتجاج کا سلسلہ پوری قوت سے جاری رہے گا۔ ــ الحاق بحرین کی سازش؛ پس پردہ عوامل کا انکشافایک عراقی مبصر نے بحرین کے الحاق کی سعودی سازش کے پس پردہ حقائق کا انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ خلیج فارس کا نقشہ بدلنے کی سعودی تجویز نہایت خطرناک ہے۔اطلاعات کے مطابق خلیج فارس کے امور کے ایک عراقی ماہر و سیاستدان "ازہر الخفاجی" نے خلیج فارس کا نقشہ بدلنے کی سعودی سازش کو خطرناک قرار دیا اور کہا کہ آل سعود کی حکومت خلیج فارس کا جغرافیائی نقشہ بدلنا چاہتی ہے تاکہ اس طرح بحرینی عوام کو تشخص کو ختم کیا جاسکے اور بحرین میں شیعہ اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کیا جاسکے۔ الخفاجی نے ریڈیو "صوت العراق" کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا: آل سعود اور آل خلیفہ کے اتحاد کی تجویز کے پس پردہ چار اسباب حکم فرما ہیں جن میں پہلا سبب یہ ہے کہ سعودی خاندان بحرین میں عوام کے وسیع انقلاب کے سامنے بے بس ہوچکا ہے۔ انھوں نے سعودی سازش کے دوسرے سبب پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ آل سعود کی انٹیلیجنس ایجنسیوں نے انتہائی دقیق اور باریک بینانہ معلومات اکٹھی کی ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ آل خلیفہ حکومت عوامی ریلیوں اور مظاہروں کے مقابلے میں بے بس اور نا امید ہوچکی ہے اور عین ممکن ہے کہ یہ حکومت عوام کے مطالبات کے سامنے سرتسلیم خم کرے اور حکومت کو عوام کے سپرد کرے۔ انھوں نے کہ آل سعود کو اندرونی طور پر بھی عوامی تحریکوں کا سامنا ہے اور سعودی حکمران سلامتی اور سیاسی کے حوالے سے شدید اور ناگہانی نقصانات سے خوفزدہ ہیں جو تیونس، مصر اور یمن میں حکومتوں کو پیش آنے والے حالات سے کسی طور پر کم نہ ہونگے۔ انھوں نے کہا کہ آل سعود کی اس سازش کا تیسرا سبب یہ ہے کہ وہ خلیج فارس ک