ابنا: ایران کےوزیرخارجہ علی اکبرصالحی نے اس سلسلےمیں کہاہے کہ ایٹمی انرجی کی عالمی ایجنسی کےسربراہ کادورہ تہران ، ایٹمی انرجی کی عالمی ایجنسی کے سوالات اورشکوک کودورکرنےکےلئے نیا فریم ورک تیارکرنےکےلحاظ سے قابل توجہ ہےاورتوقع ہےکہ دونوں فریقوں کےدرمیان نئےفریم ورک پراتفاق ہوجائے۔
ایٹمی انرجی کی عالمی ایجنسی کےسربراہ یوکیاآمانوکےساتھ آئی اےای اے کےانسپکٹروں کےنئےچیف ہرمن ناکائرتس اور آئی اے ای اے کےجوائنٹ سکریٹری رافائل گروسی بھی تہران کےدورےپرآرہےہيں۔ایران اور آئی اے ای اے کےمذاکرات کانیادور چودہ مئی کومنعقد ہواتھا ۔ماہرین کاخیال ہےکہ آمانوکادورہ تہران ایران اور آئی اے ای اے کےدرمیان بعض اختلافات پراتفاق رائے پرمنتج ہوسکتاہے ۔ ایران مذاکرات اوربحالی اعتماد سےکبھی بھی پیچھےنہيں ہٹاہے اوراس سےپہلےبھی آئی اے ای اے کےسوالوں کاجواب دےچکاہے ۔ ایران اپنےایٹمی پروگرام کےسلسلےمیں کئےجانےوالےدعؤں کےبارےمیں شکوک دور کرنےکےلئےہمیشہ تیاررہاہے جبکہ آئی اےای اے کوبھی شکوک وشبہات دور کرنےکےلئے سیاسی دباؤ سےدور ہوکرشفاف انداز میں عمل کرناچاہئے۔
ماہرین کاخیال ہےکہ ایران کےایٹمی پروگرام کاکیس امریکہ کےسیاسی دباؤ اورآئی اے ای اے کےغیرواضح موقف کانتیجہ ہے۔
اس کےباوجود ایران نے دوہزارسات میں آئی اے ای اے کےساتھ ایک فریم ورک کی بنیاد پر چھ سوالوں کےمنطقی جوابات دےچکاہے اورایٹمی انرجی کی عالمی ایجنسی کےاس وقت کےسربراہ ایک بیان اوررپورٹ میں اس مسئلےکوحل شدہ اعلان کرچکےہیں ۔ لیکن آئی اے ای اے کےانسپیکٹروں کی جانب سےایران کی ایٹمی تنصیبات کےبارہا معائنوں اوراس میں این پی ٹی معاہدےسےذرہ برابربھی انحراف کی کوئي رپورٹ نہ دیئےجانےکےباوجود ائی اے ای اے نےسیاسی دباؤ میں ایران کےایٹمی معاملےکاکیس معمول پرلانےکےسلسلےمیں کوئی اقدام نہيں کیاہے اوریہ مسئلہ اب بھی سلامتی کونسل میں موجودہے۔ان خلاف ورزیوں کےباوجود آئی اے ای اے کےساتھ ایران کےمسلسل تعاون سےپتہ چلتاہےکہ ایران مذاکرات کےلئے ہمیشہ سنجیدہ رہاہے۔اس لحاظ سے یوکیاآمانوکادورہ تہران ایران کااعتماد حاصل کرنےکاایک مناسب موقع ہوسکتاہے۔اس میں کوئی شک نہيں ہےکہ اس تعاون کےعمل میں دونوں فریقوں کوتوقعات ہيں اورکچہ سوالات اورابہامات بھی ہوسکتےہيں جومذاکرات سےحل ہوسکتےہيں لیکن آئی اے ای کی جانب سےرکن ممالک کی خفیہ اطلاعات کی حفاظت نہیں کی جاتی اورایران کےخلاف قراردادوں اور رپورٹوں میں اس کاذکرکیاگیا جس کےنتیجےمیں ایران کےایٹمی سائنسدانوں کاقتل ہوا۔ یہ ایک قابل غورمسئلہ ہے۔ اس کےساتھ ہی آئی اے ای کی جانب سے ایران کےبارےميں اپنی رپورٹ میں غیرمعتبراورجعلی ذرائع کاحوالہ دیاجانابھی ایک ایساموضوع ہےجوپہلےسے ہی درپیش ہے۔لہذا توقع ہے کہ ایٹمی انرجی کی عالمی ایجنسی یوکیاآمانوکےسربراہ کےوعدوں کےمطابق اس نئے ماحول میں میں اپنےفرائض پرذمہ داری سےعمل کرےگی ۔....... /169