10 مئی 2012 - 19:30

دہشتگرد گروپ ايم کے او، جسکا کردار ايران و عراق کے عوام کے خلاف دہشتگردي کي وارادتوں کے حوالے سے پوشيدہ نہيں ہے، بعض امريکي حکام کے تعاون سے اپنا نام دہشتگرد تنظيموں کي فہرست سے نکالنے کي کوشش کررہا ہے-

ابنا: ايم کے او کے عناصر کو عراق سے بے دخل کرنے کے عمل کا ابتدائي مرحلہ شروع ہوگيا ہے اور اسکے عناصر کو اشرف چھاوني سے بغداد کي لبرٹي چھاوني منتقل کيا جارہا ہے تاکہ انہيں وہاں سے کسي اور ملک منتقل کيا جاسکے-ايران ميں اسلامي انقلاب کي کاميابي کے بعد سے ايم کے او نے بيروني طاقتوں کي حمايت کے ذريعے ايران کے ساتھ دشمني ميں کوئي کسرباقي نہيں چھوڑي - ايران کي اہم سياسي و مذہبي شخصيات کا قتل اور مختلف علاقوں ميں بم دھماکے منافقين کي ايران مخالف سرگرميوں کا محض ايک حصہ  ہيں-ايران کے خلاف مسلط کردہ جنگ کے دوران ايم کے او کے عناصر نے عراقي ڈکٹيٹر صدام کي فوج کے ساتھ ملکر حملوں ميں حصہ ليا-عراق کي بعثي حکومت اور بعض مغربي ملکوں  کي حمايت سے مذکورہ گروپ نے شمالي عراق ميں کردوں اور جنوبي عراق ميں شيعہ مسلمانوں کي سرکوبي ميں حصہ ليا  اور انيس سو بانوے ميں دنيا کے کئي ملکوں ميں اسلامي جمہوريہ ايران کے نمائندہ دفاتر پر حملے کئے-سن دوہزار ميں ايم کے او نے ايران مخالف سرگرمياں تيز کرديں اور بعض مغربي ملکوں نے مذکورہ گروپ کي غير مصدقہ رپورٹوں کو بنياد بنا کر ايران کے جوہري پروگرام کے خلاف بے بنياد دعوے کرنا شروع کرديئے-ايران و عراق کے عوام کے خلاف ايم کے او کے دہشتگردانہ کاروائيوں کے باوجود بعض امريکي حکام نے مذکورہ گروپ کو اس بات کا گرين سگنل ديا ہے کہ وہ دہشتگرد تنظيموں کي فہرست سے اپنا نام نکلوانے کے لئے کوششيں تيز کردے جو امريکہ کي دہشتگردي مخالف مہم ميں کھلے تضاد کي نشاني ہے-عراقي ڈکٹيٹر صدام نے ايم کے او کو اپني غلامي کا انعام دينے کے لئے انيس سو چھياسي ميں عراق کے صوبے ديالہ ميں قائم اشرف نامي فوجي چھاوني اس کے حوالے کردي تھي ليکن آج اس دہشتگرد گروپ کي اشرف چھاوني سے  لبرٹي چھاوني منتقل کرنے کے حوالے سے عراق کي عوامي حکومت کي کوششيں اپنے آخري مرحلے ميں داخل ہوگئي ہيں-ايسا دکھائي ديتا ہے کہ ايم کے او کے عناصر کي عراق کي اشرف چھاوني سے بے دخلي اور امريکہ کي دہشتگرد تنظيموں کي فہرست سے اس کا نام  نکالنے کي کوششوں کے درميان کوئي رابطہ ضرور پايا جاتا ہے تاکہ مذکورہ دہشتگردوں کو کسي تيسرے ملک ميں بسانے کا معاملہ حل ہوسکے-......../169