ابنا: رپورٹ کے مطابق پاکستان اور چين بھارتي ميزء ائل سسٹم کو جانتے ہيں، اس لئے وہ بھارتي ميزائل شکن ميزائل (انٹرسيپٹرز) کے توڑ کے لئے اپنے ميزائلوں کو decoy سے مسلح کر سکتے ہيں. بھارت کا اينٹي بيلسٹک ميزائل آئندہ دو برس ميں آپريشنل ہو جائے گا.ليکن بھارتي حکام کو يقين ہے کہ ان ميزائل شکن نظام ابھي سے آپريشنل کيلئے تيار ہے اور وہ پارليمنٹ سے دہلي يا اس جيسے مقامات کي حفاظت کے لئے اس کي تنصيب کے لئے رقم مختص کا مطالبہ کر رہے ہيں.رپورٹ کے مطابق بھارت کا اينٹي ميزائل سسٹم دو قسم کے اہداف کو نشانہ بنانے کي صلاحيت رکھتا ہے.
پرتھوي ائير دفاعي نظام 50سے80کلوميٹر کي بلندي تک ميزائل کو روکنے کي صلاحيت جب کہ ايڈوانس ايئر دفاعي نظام 30کلوميٹر کي بلندي کے ميزائل کو نشانہ بنا سکتا ہے. بھارت کے دونوں ميزائل شکن نظام اسرائيلي ريڈارسسٹم گرين پائن پر انحصار کرتے ہيں.اسرائيل کا يہ نظام ايرو اينٹي ميزائل سسٹم کا حصہ ہے جو 5ہزار کلوميٹر تک بيلسٹک ميزائل سے دفاع فراہم کرتا ہے. بھارت اسرائيل کے ساتھ مل کر اس نظام پر مزيد کا کام کرنا چاہتا ہے ،بھارت نے اسرائيل سے مکمل (Arrow system) سے خريدنا چاہا ليکن امريکا نے اسرائيل کو منع کرديا کيونکہ اس سسٹم ميں امريکي ٹيکنالوجي کا استعمال بہت زيادہ ہے.
بھارت کے دونوں ميزائل شکن نظام پاکستان اور چين کے ميزائلوں کے توڑ کے لئے بنائے گئے ہيں.اس کے علاو ہ بھارت کا ہائپرسونک ميزائل (پي ڈي اے) بھي تياري کے مراحل ميں ہے جو دشمن کے ميزائل کو 150کلوميٹر کي بلندي تک گرا سکتا ہے .رپورٹ کے مطابق بھارت اينٹي ميزائل ٹيکنالوجي تيارکر نے والادنيا کا پانچواں ملک ہے اور اس نظام پر وہ ايک دہائي سے کام کر رہا ہے.دس برس قبل بھارت نے اسرائيل سے دو گرين پائن اينٹي بيلسٹک ميزائل ريڈار کے حصول کا آرڈر ديا تھا.چھ سال قبل بھارت کاميابي سے اپنے تجربات ميں اسرائيلي ريڈار نظام کو استعمال ميں لا چکا ہے.
.......
/169