8 مئی 2012 - 19:30

ایہود بارک نے کہا کہ ایران کے سابق صدر اکبر ہاشمی رفسنجانی، بقول اس کے، اعتدال پسند سیاستدان تھے لیکن ان کا بھی کہنا تھا کہ "اسرائیل کے لئے ایک بم کافی ہے اور اسرائیل کو ایک بم مار کر نیست و نابود کرنا چاہئے"۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا- کی رپورٹ کے مطابق ایرانی روزنامے "کیہان" کی رپورٹ کے مطابق ایہود بارک نے حال ہی میں "اسرائیل الیوم" نامی صہیونی ٹی وی چینل سے بات چیت کرتے ہوئے 2003 میں ہاشمی رفسنجانی کے موقف کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: رفسنجانی ایک اعتدال پسند سیاستدان ہیں لیکن ان کے موقف سے ایرانی تفکر کی اسرائیل مخالف رجحان کی اتہاہ گہرائیوں کا پتہ ملتا ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ ایران میں سب اسرائیل کی نابودی کے خواہاں ہیں۔

بارک نے کہا: ہاشمی رفسنجانی نے 2003 میں کہا تھا کہ: "عالم اسلام کے مدمقابل اسرائیل کے سوا کوئی نہيں ہے اور ہماری معلومات اور اسرائیل کی حقیقت کی بنا پر صہیونی ریاست بہت چھوٹی اور ناچیز ہے اور اس کی نابودی کے لئے صرف ایک بم کافی ہے؛ اور اگر اسرائیل نے کبھی ایران کے خلاف اقدام کیا تو ہم ضرورجوابی کارروائی کریں گے لیکن ہمارے علاوہ 20 دوسری مسلم قومیں بھی اسرائیل پر حملے کے لئے تیار ہیں۔ چنانچہ کسی شرارت کی صورت میں اسرائیل کا وجود ہمیشہ کے لئے روئے زمین سے مٹ جائے گا۔

.......

/169