ابنا: لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ مسلم لیگ ن کے فیصلے ان کی پارٹی پالیسی اور عوام کے لیے ہے ۔نواز شریف سے عدلیہ کے پرانے مراسم ہیں تفصیلی فیصلے کا انتظار کررہے ہیں ۔وزیر اعظم نااہل ہوئے تو انہیں مستعفی ہونا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کو پارٹی نے مستعفی ہونے کے لیے نہیں کہا پارٹی ان کے ساتھ ہے۔ ڈرون حملوں کے حوالے سے سوال میں احمد مختار نے کہا کہ امریکا کو ڈرون حملے مل کر کرنے کا کہا ہے لیکن وہ نہیں مانا۔ انہوں نے کہا کہ سیاچن پر بھارت بہتر پوزیشن پر بیٹھا ہے۔ نئے صوبوں کا قیام مسائل کا جزوی حل ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدلیہ ہماری دشمن نہیں۔ عدلیہ کو انصاف کرنا چاہیے۔ انہوںنے کہا کہ سپریم کورٹ سوئس حکام کو خط لکھنے کے لیے کمیشن بھی بنادے تو وہ بھی خط نہیں لکھ سکتا.
اُسا مہ کو ہم نے مر وایا: پاکستان کا اعترا ف پہلی با ر باضا بطہ طور پر اُ سا مہ بن لا دن کو امریکہ کی مدد سے مر وانے انکشا ف کرتے وزیر دفا ع احمد مختار کا کہنا ہے کہ القاعدہ کے سابق سربراہ اُسامہ کی ہلاکت میں پاکستانی حکومت اور فوج کا ہاتھ ہے جبکہ اُسامہ کو موبائل فون کی چپ کی مدد سے تلاش کیا گیا تھا۔ برطانوی نشریاتی ادارے کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے وزیر دفاع چودھری احمد مختار نے انکشاف کیا کہ جس موبائل سم سے اُسامہ تک رسائی ہوئی، وہ انٹیلی جنس والوں کو ایک جگہ گری پڑی ملی تھی۔ اُن کا کہنا تھا کہ اُسامہ کئی روز تک اِس چپ کو استعمال نہیں کرتے تھے۔ اُن کا کہنا تھا کہ امریکہ کے ساتھ پاکستان کا معاہدہ تھا کہ عربی اور انگریزی میں جو بھی مواد پاکستان کو ملے گا، وہ اسے امریکہ کے ساتھ شیئرکرے گا جبکہ اردو میں ملنے والی ہر طرح کی معلومات پاکستان کے علم میں لائی جائیں گی۔ اُنہوں نے کہا کہ یہ تو وقت ہی بتائے گاکہ اسامہ بن لادن کتنا بڑا لیڈر تھا، اُس کےکارنامے کیا تھے اور وہ مسلمان ممالک کے لیے کتنے مثبت رہے۔ احمد مختارنے بتایا کہ اُسامہ کی رہائش گاہ سے ملنے والا مواد فوج کے پاس ہے جس کی چھان بین کی جا رہی ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حکومت مخالفوں کی خواہش ہوگی کہ اُسامہ کی ہلاکت کی تحقیقات کرنے والے کمیشن کی رپورٹ کے ذریعے حکومت کو پھنسایا جائے۔ دنیا کے سب سے بڑے دہشت گرد کو مروانے میں مدد دینے والے ڈاکٹر شکیل آفریدی کی سزا کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر اُن کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر شکیل کا ٹرائل اِس لئے ہو رہا ہے کہ اُسے معلومات امریکہ کے بجائے پاکستان کو دینی چاہئیں تھیں۔ پاکستان میں القاعدہ کے نیٹ ورک کے بارے پوچھے گئے سوال پر چوہدری احمد مختار نے کہا کہ پاکستانی فوج نے نیٹ ورک کمزور کیا ہے اور وہ اِس قابل نہیں کہ پاکستان کو تباہ کرسکے۔
۔۔۔۔۔۔۔
/110