6 مئی 2012 - 19:30

ایسی حالت میں جبکہ افغانستان پر جاری امریکی قبضے کے خلاف اس ملک میں عوامی مخالت روز بروز زور پکڑتی جارہی ہے امریکی حکام جھوٹ کی حکمت عملی اختیار کرکے افغانستان میں امریکی فوجیوں کے جرائم کو ایک ذاتی مسئلہ اور اسے امریکی فوجیوں کے تنظیمی ڈھانچے سے الگ قرار دیکر افغانستان پر جاری امریکی قبضے کے خلاف اس ملک کے عوام کا غم و غصہ ٹھنڈا کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔ امریکی وزیر دفاع لئون پنیٹا نے کہا ہے کہ افغانستان میں امریکی فوجیوں کے حالیہ روّیے سے اس ملک میں امریکی فوجیوں کے مشن کو سخت دھچکا لگا ہے۔

ابنا: امریکی وزیر دفاع لئون پنیٹا نے جارجیا میں ایک پریس کانفرنس میں تاکید کے ساتھہ کہا ہے کہ افغانستان میں نیٹو اور امریکی فوجیوں کے جرائم کے بارے میں ان فلموں اور تصاویر سے،جو عالمی ذرائع ابلاغ میں سرفہرست خبریں بنی ہیں واشنگٹن کے مشن اور امریکہ کی عالمی پوزیشن کو بھی نقصان پہنچا ہے جس سے امریکی فوجیوں کی جان کو خطرہ لاحق ہوگیا ہے ۔ امریکی وزیر دفاع لئون پنیٹا کا یہ بیان دو اعتبار سے غور طلب ہے ۔ اولا یہ کہ اس بیان کے ذریعے یہ ظاہر کیا گيا ہے کہ افغانستان میں امریکی فوجیوں کے جرائم ایک ذاتی اقدام ہے ۔

اور ثانیا یہ کہ یہ بیان افغانستان میں امریکی فوجیوں کے جرائم کے انکشاف پر تشویش کو ظاہر کرتا ہے ۔ اور ساتھہ ہی یہ بیان اس بات کا بھی آئینہ دار ہے کہ افغانستان میں امریکی فوجیوں کے بہت سے جرائم کا خبروں کو سینسر کئے جانے کی بناء پر پتہ ہی نہیں چل پاتا ہے ۔

مختلف ذرائع ابلاغ منجملہ امریکی و جرمن ذرائع ابلاغ میں افغانستان میں امریکی فوجیوں کے ہاتھوں انجام پانے والے جرائم کی تصاویر کی اشاعت نے نہ صرف افغانستان میں امریکی فوجیوں کے بعض جرائم کو طشت از بام کردیا ہے بلکہ اس سے افغانستان میں امریکی فوجیوں کی کارکردگی کی مذمت اور تنقید کی ایک لہر بھی اٹھہ گئي ہے ۔

افغانستان میں امریکی اور نیٹو فوجیوں کی جانب سے تفریح کے طور پر عام شہریوں کا قتل عام اور ان کی انگلیاں کاٹنے کیلئے ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش ۔ تفریح کی غرض سے افغان شہریوں کے مکانات پر دستی بموں سے حملے اور اسی طرح دیہاتیوں کا قتل عام افغانستان میں تعینات نیٹو اور امریکی فوجیوں کے جاری جرائم کا صرف ایک حصہ ہے جس سے امریکہ اور نیٹو کے خلاف افغان عوام اور علاقائی و بین الاقوامی حلقوں کا غم و غصہ بھڑک اٹھا ہے ۔

سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ امریکی وزیر دفاع لئون پنیٹا کے بیان میں صداقت کا فقدان اس لحاظ سے بھی قابل غور ہے کہ امریکی فوجی عدالت نے اس حوالے سے کسی بھی فوجی کے خلاف ابتک کوئی کاروائی نہیں کی ہے بلکہ امریکی فوج اپنے مجرم فوجیوں کی حمایت کی بناء پر انھیں جرائم جاری رکھنے میں اور زیادہ ترغیب دلانے کا باعث بھی بنتی ہے ۔

یہی وجہ ہے کہ افغان عوام کو امریکی فوجیوں کے اس قانونی تحفظ پر تشویش لاحق ہے کہ جسے کابل-واشنگٹن اسٹریٹیجک معاہدے کے دائرے میں افغان حکومت پر مسلط کئے جانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ مبصرین کے بقول کابل -

واشنگٹن معاہدے پر افغانستان اور اسی طرح علاقائی سطح پر بڑھتی ہوئی مخالفتوں کے پیش نظر امریکی فوجیوں کے غلط رویّے پر مبنی بیان، اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ وہ یہ ظاہر کرنے کی کوشش کررہے ہیں کہ امریکی فوج افغانستان میں اپنے فوجیوں کے طور طریقوں پر اور زیادہ نظر رکھے گی تاکہ ایک طرح سے افغانستان پر جاری قبضے پر افغان عوام کی تشویش کم کی جاسکے ۔

یہ ایسی حالت میں ہے کہ افغان عوام اپنے ملک پر جاری امریکی قبضے کو ہی افغانستان میں بحران و بدامنی اور تشّدد و خونریزی کا اہم ترین عامل سمجھتے ہیں اور وہ افغانستان پر امریکہ و نیٹو کے قبضے کا خاتمہ چاہتے ہیں ۔.......

/169