اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق سعودی وزیر خارجہ نے گذشتہ جمعرات کو کہا تھا کہ سعودی عرب میں قید مصری قانوندان سمیت دوسرے مصری اسیروں کو مارا جائے گا اور ان کی لاشیں تابوتوں میں سجا کر مصر لوٹا دی جائیں گی چنانچہ ان کی یہ بات ایک تشہیری تنازعے میں بدل گئی اور مصر سے حال ہی میں ریاض لوٹائے جانے والے سعودی سفیر نے ذرائع ابلاغ سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ سعودی وزیر خارجہ سے ایسی باتیں منسوب کرنا، ایک نامناسب اقدام ہے۔
احمد القطان نے کہا: سعود الفیصل سے ایسی باتیں منسوب کرنا، قابل قبول نہیں ہے کیونکہ ایسی باتیں صدام اور قذافی جیسے لوگ کرسکتے ہیں!۔
یاد رہے کہ سعودی وزیر خارجہ سعود الفیصل نے ابھی تک اپنے سے منسوب دھمکی کی تردید نہيں کی ہے اور احمد القطان نے عراق، مصر، شام، پاکستان اور دوسرے ملکوں میں دہشت گردوں کی سعودی سرپرستی اور ہزاروں افراد کے قتل میں آل سعود کی شراکت کی طرف کوئی اشارہ کئے بغیر اس طرح کے اقدامات کو قذافی اور صدام کے لئے مناسب قرار دیا اور اس بات کی طرف بھی کوئی اشارہ نہیں کیا کہ آل سعود نے اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف صدام کی آٹھ سالہ جنگ کے دوران اپنے خزانے کا منہ صدام کے لئے کھول رکھا تھا اور ایران کے خلاف عالمی محاذ کا حصہ تھا اور صرف اس وقت صدام کی مخالفت کرنی پڑی جب صدام نے کویت پر قبضہ کیا اور نجد و حجاز پر قبضے کے سپنے دیکھنے شروع کئے۔
.......
/169
تفصیل کے لئے رجوع کیجئے:
| بلادالحرمین کی مفصل خبریں؛ قاہرہ ـ ریاض تعلقات کیمپ ڈیوڈ کے بعد بدترین صورت حال سے دوچار |