30 اپریل 2012 - 19:30

اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان رامین مہمان پرست نے کہا ہےکہ بیرونی ملکوں کی مداخلت سے خلیج فارس کی سکیورٹی کوخطرات لاحق ہیں۔

ابنا: رامین مہمان پرست نے آج ہفتہ وار پریس بریفنگ میں خلیج کے ملکوں کی مشترکہ فوجی مشقوں اور امارات میں امریکہ کے ایف بائيس طیاروں کی تعیناتی کی طرف اشارہ کرتےہوئے کہا کہ بیرونی ملکوں سے علاقائي ملکوں کی وابستگي خواہ وسائل وذرائع اور فوجی ساز و سامان کے لحاظ سے ہو علاقے کی سکیورٹی کے منافی ہے ۔

 رامین مہمان پرست نے کہا کہ اگر علاقائي ممالک باہمی تعاون سے علاقے میں امن وسلامتی قائم کریں تو انہیں فائدہ پہنچے گا لیکن ابھی تک ایسا کوئي اقدام دیکھنے میں نہیں آيا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران چاہتا ہے کہ علاقائي ملکوں کے تعاون اور بیرونی ملکوں کی مداخلت کے بغیر علاقے میں امن و سلامتی قائم ہو۔

انہوں نے لبنانی حکومت کی جانب سے شام کےلئے ہتھیار لے جانے والے بحری جہاز کو ضبط کئے جانے کوسراہتے ہوئے کہا کہ بعض ممالک شام میں جنگ بندی کے مخالف اور کوفی عنان کے منصوبے کی ناکامی کے خواہاں ہیں، انہوں نے کہا کہ بعض ممالک شام کے مخالف گروہوں کو ہتھیار فراہم کرکے شام میں بدامنی پھیلانے کے درپئے ہیں۔

اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ شام کے حالات ایک ایسی کسوٹی ہے جس پر علاقائي اور بیرونی ممالک کے عزائم کو پرکھا جاسکتا ہے شام پر سامنے آنے والے مواقف سے پتہ چل رہا ہے کہ کون عوام کی امنگوں کو اہمیت دیتاہے اور کون سی قوتیں صیہونی حکومت کے خلاف مزاحمت کے محاذ کو کمزور کرنے کے لئے شام کی حکومت پر دباؤ بڑھانا چاہتی ہیں تاکہ اسلامی بیداری کے نتیجے میں صیہونی حکومت پر پڑ نے والےدباؤ کو ختم کرسکیں۔

مہمان پرست نے اسلامی جمہوریہ ایران میں انسانی حقوق کی صورتحال کے بارے میں برطانوی وزارت خارجہ کی رپورٹ کی مذمت کرتےہوئے کہا کہ برطانیہ انسانی حقوق کے بہانے مختلف ملکوں کے امور میں مداخلت کرتا ہے۔انہوں نے ٹیٹن ھام میں طلباء کے مظاہروں نیز لندن میں سرمایہ داری کے مخالفیں پر برطانوی پولیس کے وحشیانہ تشدد کی یاد دلاتے ہوئے کہا کہ انسانی حقوق کے سلسلے میں برطانیہ کی صورتحال بڑی افسوس نا ک ہے اور انگریزوں کو اپنے ملک کے داخلی حالات پر زیادہ توجہ دینی چاہیے
.......

/169