29 اپریل 2012 - 19:30

افغانستان کے وزیر داخلہ بسم اللہ محمدی نے اتوار کے روز اس ملک کی سینیٹ میں کہا ہے کہ ایسی کوئی علامت اور نشانی موجود نہیں ہے جس سے ظاہر ہوتا ہو کہ طالبان گروہ افغان حکومت کے ساتھ مصالحت کرنے پر تیار ہے۔

ابنا: انہوں نے کہا کہ افغان حکومت کے مخالف تمام گروہ جنگ کی اسٹریٹجی پر یقین رکھتے ہیں اور وہ حکومت کے ساتھ مصالحت اور مذاکرات میں دلچسپی نہیں رکھتے ہیں۔ اگرچہ افغان وزیر داخلہ نے طالبان کے ساتھ مصالحت کے بارے میں دیگر مخالف سیاسی گروہوں کے موقف کی جانب کوئی اشارہ نہیں کیا لیکن ایسا نظر آتا ہے کہ افغان حکومت کے مخالف سیاسی گروہ موجودہ شکل میں کہ جب اس سلسلے میں تمام امور امریکہ کے ہاتھ میں ہیں، طالبان کے ساتھ مذاکرات کے مخالف ہیں کیونکہ وہ اسے افغانستان کے داخلی امور میں مداخلت سمجھتے ہیں۔

اس بنا پر ایسا نہیں لگتا کہ اگرمخالف سیاسی گروہوں کے ساتھ افغان حکومت کے مذاکرات آئین اور قومی امن و آشتی قائم کرنے کے لیے ہوں کہ جن میں تمام سیاسی و مذہبی گروہ شریک ہوں تو حکومت کے سیاسی مخالفین اس کی مخالفت کریں گے۔ ان تمام باتوں کے باوجود امریکہ طالبان کے ساتھ خفیہ مذاکرات کر کے کسی اتفاق رائے تک پہنچنے کی کوشش کر رہا ہے کہ جس کی افغانستان میں وسیع پیمانے پر مخالفت کی جا رہی ہے۔

امریکہ افغانستان کے جنوبی اور پشتون علاقوں کے امور طالبان کے حوالے کر کے اس گروہ کو افغانستان کے سیاسی عمل میں شریک ہونے پر قائل کرنے کی کوشش کر رہا ہے جبکہ مخالف گروہ اور جماعتیں اسے افغانستان پر مسلط کی گئی امریکی پالیسی سمجھتے ہیں اور اس کی مخالف ہیں۔

اسی دوران شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ طالبان گروہ بھی افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لیے سنجیدہ نہیں ہے اور امریکہ کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنے کو ترجیح دیتا ہے۔ طالبان رہنماؤں کے نام اقوام متحدہ کی بلیک لسٹ سے خارج کرنے کے اقدام کا کہ جو بلاشبہ امریکی درخواست پر اور اسلام آباد میں حالیہ سہ فریقی اجلاس کے نتیجے میں انجام پایا ہے، اسی تناظر میں جائزہ لیا جا سکتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں امریکہ طالبان کے ساتھ مصالحت کے لیے طالبان گروہ کو ایسی مراعات دینے پر تیار ہے کہ ممکن ہے افغان حکومت اور عوام جن کے مخالف ہوں۔ بہرحال افغانستان کے حالات ایسی سمت کی جانب بڑھ رہے ہیں کہ جس پر افغانستان کے عوام، مخالف گروہوں اور حتی حکومت کے بعض حلقوں کو تشویش ہے۔

درحقیقت امریکہ طالبان کے ساتھ مذاکرات اور سازباز کر کے اس گروہ کو افغان حکومت کے ساتھ اپنے اسٹریٹجک معاہدے کو قبول کرنے پر راضی کرنا چاہتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ امریکہ اپنے مفادات کے حصول کے لیے طالبان کے ساتھ سازباز کرنے پر تیار ہے کہ جن کو نیست و نابود کرنے کے لیے اس نے دو ہزار ایک میں افغانستان پر لشکرکشی کی تھی اور افغان عوام کے مفادات اور خواہشات کی امریکہ کے نزدیک کوئي اہمیت نہیں ہے۔
 .......
/169