اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق آل خلیفہ کے وزیر خارجہ شیخ خالد بن احمد بن محمد آل خلیفہ نے بحرین میں آل سعود کے سفیر "عبدالمحسن فہد المبارک" سے بات چیت کرتے ہوئے علاقے اور خاص طور پر بحرین میں آل سعود کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے آل سعود کا شکریہ ادا کیا۔
اطلاعات کے مطابق آل سعود کے سفیر سے آل خلیفہ کے وزیر خارجہ کی ملاقات میں علاقے کی سیاسی صورت حال کا جائزہ لیا کيا اور آل خلیفہ کے وزیر خارجہ نے شام، مصر، یمن، لیبیا اور بحرین میں آل سعود کے کردار کو سراہا اور کہا کہ یہ پالیسیاں شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز کی ہدایت پر سعودی وزیر خارجہ سعود الفیصل نے وضع کی ہیں اور ان پالیسیوں نے خلیج فارس کی ریاستوں میں جاری "سیاسی عمل" (!؟) میں تعمیری کردار ادا کیا ہے۔
یاد رہے کہ آل سعود اور قطر کا حکمران خاندان آل ثانی بحرین، یمن، مصر، لیبیا، تیونس اور عراق میں فرقہ واریت کو ہوا دینے، عوامی اور اسلامی انقلابوں کو منحرف کرنے، صہیونیت مخالف رجحانات کو ٹھنڈا کرنے اور شام کی حکومت کو کمزور کرکے اسرائیل مخالف مزاحمت محاذ پر وار کرنے میں زبردست کردار ادا کررہے ہیں اور عرب ملکوں میں کسی بھی سیاسی عمل کا راستہ روک رہے ہيں اور آل خلیفہ کے وزیر خارجہ نے اسی عمل کو علاقے کے ممالک میں جاری سیاسی عمل کا نام دیتے ہوئے اس کی تعریف کی ہے۔
عبدالمحسن فہد المارک نے آل سعود اور آل خلیفہ کے مشترکہ مقدرات پر زور دیا اور کہا کہ دوملکوں کے درمیان رشتے اس قدر مضبوط ہیں کہ ایک ملک پر اثر انداز ہونے والا کوئی بھی حادثہ دوسرے ملک پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔
گویا سعودی سفیر نے اس بات کا ضمنی طور پر اعتراف کیا ہے کہ آل سعود بحرین میں انقلاب کا راستہ صرف اس لئے روکنا چاہتا ہے کہ یہاں کامیاب ہونے والا انقلاب سعودی عرب کے انقلابیوں کے حوصلے بڑھا دے گا اور وہاں بھی شاہی خاندان زیادہ دیر تک قائم نہيں رہ سکے گا۔
آل سعود نے اپنی فوجیں مارچ 2011 میں بحرین پر چڑھا دی ہیں اور ان فوجیوں نے قرآن مجید کو نذر آتش کرنے، مساجد کو شہید کرنے اور عوام کو تنگ کرنے میں جو کردار ادا کیا ہے اس کی مثال شاید چنگیز اور ہلاکو خان کی تاریخ میں بھی نہ ملے اور دنیا کی تاریخ میں پہلی باری اتنی بڑی تعداد میں مساجد کی شہادت کے واقعات سامنے آئے ہیں۔
.......
/169
تفصیل کے لئے رجوع کیجئے:
انقلاب کرامت بحرین کا 440واں دن؛ متنوع رپورٹیں؛آل خلیفہ کے خلاف لاکھوں افراد کا احتجاج / عبدالہادی الخواجہ کہاں ہیں؟