ابنا: قاہرہ سے موصولہ اطلاعات کے مطابق مصر کي جانب سے اسرائيل کو گيس کي سپلائي روکنے کے فيصلے کے بارہ گھنٹے بعد صہیوني ریاست نے شديد ردعمل ظاہر کيا جس کے بعد بين الاقوامي تعاون کے شعبے ميں مصري وزير نے امريکا اور اسرائيل کے دباؤ ميں آ کر کہا ہے کہ ان کا ملک نئے معاہدے اور نئي قيمتوں کے ساتھ اسرائيل کو گيس کي سپلائي بحال کرنے کے ليے تيار ہے۔
انہوں نے ايک پريس کانفرنس ميں کہا کہ مصر کو نئي شرطوں اور نئي قيمتوں کے ساتھ نئے معاہدے ميں کوئي مشکل نہيں ہے۔
انہوں نے کہا کہ جو معاہدہ منسوخ ہوا ہے وہ دو کمپنيوں کے درميان تھا اور اسرائيلي کمپني نے معاہدے کي شقوں پر عمل نہيں کيا تھا جس کے سبب اسے پانچ بار متنبہ کيا گيا تھا اور بقاياجات کي ادائيگي کے ليے اسے اکتيس مارچ کي آخري مہلت دي گئي تھي تاہم اس نے باقي رقم ادا نہيں کي جس کي وجہ سے يہ معاہدہ خود بہ خود منسوخ ہو گيا۔
واضح رہے کہ دو ہزار پانچ ميں مصر اور صہیوني ریاست کے درميان ہونے والے ڈھائي ارب ڈالر کے معاہدے کي رو سے مصر نے دو ہزار آٹھ سے اسرائيل کو گيس کي سپلائي شروع کي تھي اور ايک اسرائيلي کمپني پندرہ برسوں کے ليے سالانہ ايک ارب ستر کروڑ کيوبک ميٹر گيس مصر سے خريد کر اسے اسرائيل کي بجلي کي کمپني کو دے رہي تھي۔
دوسري جانب مصر کي الکفايہ پارٹي کي سينير رکن کريمہ الحفناوي نے جمعرات کے روز کيمپ ڈيوڈ معاہدے کے بارے ميں مصر ميں ريفرنڈم کرائے جانے کا مطالبہ کيا ہے۔انہوں نے العالم ٹي وي چينل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مصري عوام اس معاہدے کو اپنے ليے باعث شرم سمجھتے ہيں کيونکہ اس سے ان کا قومي وقار مجروح ہوا ہے- انہوں نے کہا کہ مصر کے عوام اس بات کي اجازت نہيں ديں گے کہ کيمپ ڈيوڈ کا شرمناک معاہدہ باقي رہے۔
کيمپ ڈيوڈ معاہدے کے خلاف حفناوي کا يہ سخت بيان ايسے عالم ميں سامنے آيا ہے کہ جب العريش شہر کے لوگوں نے صہیوني ریاست کے خلاف مظاہرے کيے ہيں۔ مظاہرين نے صہیوني فوجيوں کے لئے نصب ايک يادگاري پتھر کو اس کے مقام سے ہٹانے کي کوشش کي- مصري عوام کے اس اقدام سے پتہ چلتا ہےکہ وہ صہیوني ریاست سے کتني نفرت کرتے ہيں۔ کيمپ ڈيوڈ معاہدے کو تينتيس سال کا عرصہ گز رچکا ہے تاہم مصري عوام اب بھي اسے منسوخ کيے جانے کے خواہاں ہيں۔
مصر کي جانب سے اسرائيل کو گيس کي سپلائي بند کيے جانے کي ايک اہم وجہ، مصري عوام ميں صہیوني ریاست کے خلاف پائے جانے والے جذبات بھي ہيں۔ مصر کي جانب سے اسرائيلي کو گيس کي سپلائي روکے جانے کے بعد مصري عوام ميں خوشي کي لہر دوڑ گئي اور بعض افراد نے کہا ہے کہ يہ فيصلہ کئي سال پہلے ہي ہو جانا چاہيے تھا۔
مصر کے عوام اس فيصلے سے جتنے خوش ہيں اتني ہي صہیوني حکام ميں تشويش بڑھتي جا رہي ہے,يہاں تک کہ کاديما پارٹي کے سربراہ شاؤل موفاز نے کہا ہے کہ مصر کي جانب سے اسرائيل کو گيس کي سپلائي بند ہونا اسرائيل کے ليے ايک عديم المثال بحران ہے ليکن اب اعلي فوجي کونسل کي حکومت نے صہیوني ریاست کے لئے گيس کي سپلائي کے نئے معاہدے پر غور کرنے کا اعلان کرکے مصر کے عوام اور انقلابي حلقوں ميں تشويش پيدا کردي ہے۔.......
/169