19 اپریل 2012 - 19:30

اقوام متحدہ کے سکريٹري جنرل نے ايک بار پھر کہا ہے کہ ايران کا ايٹمي مسئلہ مذاکرات کے ذريعے حل ہونا چاہئے۔

ابنا: بان کي مون نے جمعرات کو سلامتي کونسل کے اجلاس ميں گروپ پانچ جمع ايک اور ايران کے استنبول مذاکرات کے نتائج کا خير مقدم کيا اور کہا کہ  تنازعات کے تصفيئے کا واحد راستہ سياسي طريق کار ہے۔ بان کي مون نے کہا کہ ايران کے ايٹمي مسئلے کو اين  پي ٹي کي بنياد پر حل کيا جا سکتا ہے اور اس طرح ايران کے ايٹمي مسئلے کے سلسلے ميں عالمي برادري کو اعتماد بھي حاصل ہو جائے گا۔ 

بان کي مون نے کہا کہ سلامتي کونسل کي قيادت ميں عالمي برادري نے ايٹمي ہتھياروں سے پاک دنيا ميں قيام امن پر اپني توجہ مرکوز کر رکھي ہے۔ بان کي مون نے کہا کہ ايٹمي ہھتياروں کے پھيلاؤ کا خطرہ بہت سنجيدہ اور فوري  نوعيت کا ہے اور ان خطرات کے ازالے ميں سلامتي کونسل کو بنيادي کردار ادا کرنا چاہیے۔

 اقوام متحدہ کے سکريٹري جنرل بان کي مون نے کہا کہ دسيوں ہزار ايٹمي  ہتھياروں سے پوري انسانيت خطرے ميں ہے اور بڑھتي ہوئي انساني ضروريات کے باوجود اربوں ڈالر کي رقم ايٹمي ہتھياروں کي جديدکاري پر خرچ کي جاتي ہے۔.......

/169