ابنا: ولید المعلم نے کہا ہے کہ حکومت شام نے رہائشی علاقوں سے فوج کے نکالنے کے اپنے وعدوں پر عمل کیا ہے اور اس کا پابند ہے ۔ شام کے امور کے بارے میں اقوام متحدہ کے خصوصی نمایندے کوفی عنان اور عرب لیگ کی چھ نکات پر مشتمل تجاویز کے مطابق گزشتہ ہفتہ کے اواخر میں جنگ بندی کا اعلان کیا گیا ہے ۔
یہ ایسے وقت ہے کہ شام میں جنگ بندی کے خلاف جھڑپوں کی خبروں کے شائع ہونے کے بعد اقوام متحدہ کے ناظرین کا ایک گروہ شام کی موافقت کے بعد سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر چارسو بیالیس کے مطابق رواں ہفتے کے اوائل میں جنگ بندی پر نظارت کے لئے دمشق پہو نچ گیا ہے۔حکومت شام کی طرف سے گزشتہ چند دنوں میں جنگ بندی اور شامی حکام کی جانب سے اس کی پابندی کے باوجود حکومت مخالفین مسلح گروہ مغرب اوربعض عرب حکومتوں کی حمایت کے تحت تشدد آمیز اقدامات انجام دے رہا ہے ۔ حکومت مخالفین مسلح افراد شام کے بعض علاقوں سے شام کی فوجوں کے نکل جانے سے غلط فائدہ اٹھاکر دہشت گردانہ کاروائیا ں انجام دے رہے ہیں۔
مخالفین نے تازہ ترین دہشت گردانہ کاروائیوں کے ذریعہ شام کے عوام اور سیکورٹی فورسز کا قتل عام کیا ہے ۔ بلاشبہ مغرب اور بعض عرب حکومتوں کی طرف سے مسلح گروہوں کی حمایت دہشت گردوں کے حوصلے بڑھانے کا باعث رہی ہے ۔ ، امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے نیٹو رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کےاجلاس میں صراحت کے ساتھ حکومت شام پر دباؤ جاری رکھنے اور مخالفین کی حمایت کرنے کو کہا ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ مغرب نے شام میں کوفی عنان کے منصوبہ کو ناکام بنانے کے لئے نئے اقدامات شروع کردیئے ہیں ۔یہ ایسی صورت میں ہے کہ مغرب اور انکی بعض حامی حکومتوں نے شام کے خلاف شام کے حامی کے نام سے اس ملک میں مداخلت پسندانہ اقدامات انجام دینے کی غرض سے اجلاس منعقد کئے ہیں ۔
اس عمل کے معنی یہ ہیں کہ مغرب اور اس کے اتحادی بعض عرب ممالک کوفی عنان کے چھ نکات پرمشتمل تجاویز کو ناکام بنانے کی سازش ایک خطرناک مرحلے میں داخل ہوچکی ہے مغرب اور عرب حکومتوں کی جانب سے شام میں امن وصلح کے خلاف اقدامات کی فتنہ انگیز ماہیت عالمی سطح پر نمایاں ہوچکی ہے ، ایسے حالات میں مخالفین اور حکومت شام کے دشمنوں کے درمیان باہمی تعاون اس بات کا باعث بنا ہے کہ شام کے عوام سمجھ گئے ہیں کہ یہ بیرونی طاقتوں کے نوکر اور آلہ کار ہیں اور یہی وجہ کہ شام کے عوام بارہا ان گروہوں سے اپنی نفرت و بیزاری کا اعلان کرچکے ہیں ۔ یہ مسئلہ سبب بنا ہے کہ حکومت مخالف غیر مسلح گروہ بھی جو حکومت کے ساتھ گفتگو پرتاکید کرتا ہے ،مسلح گروہوں کی کارکردگی پر کڑی تنقیدکر رہا ہے، اور یہی امر سبب بنا ہے کہ حالیہ مہینوں میں حکومت مخالفین گروہوں کے درمیان عمیق اور گہرے اختلافات پیدا ہوگئے ہیں ۔....... /169