اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق پاراچنار میں پاکستان آرمی نے ایک بار پھر عوام دشمن رویہ اپناتے ہوئے گذشتہ دو دنوں سے پیواڑ کا محاصرہ کررکھا ہے اور وہ مقامی انتظامیہ اور مقامی انجمن کے تعاون سے پیواڑ کے مظلوم عوام پر دباؤ ڈال رہی ہے کہ قریبی گاؤں خروٹی کے لوگوں کو پاراچنار اور ملک کے دوسرے شہروں تک رسائی کے لئے راستہ دیں جبکہ پیواڑ کے عوام کا مطالبہ ہے کہ خروٹی کے لوگ پیواڑ کا پانی بحال کريں اور ضمانت دیں کہ وہ جنگل سے ایندھن فراہم کرنے کے لئے پیواڑ کے عوام کے لئے امن و امان کی فضا قائم کریں گے لیکن آرمی اور مقامی حکام عوامی مطالبات کو توجہ دیئے بغیر اصرار کررہے ہیں کہ خروٹی کے عوام کا راستہ بحال ہونا چاہئے؛ پانی اور جنگل کا مسئلہ بعد میں حل کیا جائے گا؛ جس کی وجہ سے صورت حال نازک ہے کیونکہ ایک طرف سے پاراچنار کے عوام نے اس سے پہلے کئی بار حکومت کے دباؤ کے تحت بعض تجاویز قبول کی ہیں جس کے جواب میں مخالف فریق اور دہشت گرد ٹولوں کی طرف سے نام نہاد معاہدوں کا پاس نہیں رکھا گیا اور انہیں در حقیقت دھوکا دیا گیا ہے اور پیواڑ کے عوام اس حقیقت کے پیش نظر صرف اسی صورت میں خروٹی کے لوگوں کو راستہ دینے کی حامی بھررہے ہیں کہ پہلے ان کا پانی بحال کیا جائے جس کی وجہ سے عرصہ دراز سے انہیں شدید تکالیف کا سامنا ہے اور ان کی زمینیں سوکھ گئی ہیں جبکہ عوام کا گذر بسر ہی کاشتکاری پر ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ جنگل کو ان کے لئے پرامن بنایا جائے جہاں سے وہ لکڑی کاٹ کر گھریلو ایندھن کی ضروریات پوری کرتے ہیں لیکن طویل عرصے سے ان کے لئے جنگل میں جانا بھی ناممکن ہے کیونکہ جنگل بھی پانی کے بند کی مانند خروٹی کے لوگوں کے قبضے میں ہے اور خروٹی گاؤں در حقیقت ان دیہاتوں میں سے ہے جہاں دہشت گردوں کی پناہگاہیں بھی ہیں لیکن حکومت یہ سب مسائل حل کئے بغیر محب وطن عوام پر مسلسل دباؤ ڈال رہی ہے کہ اپنے حقوق مانگے بغیر مخالف فریق کا مطالبہ مانیں ورنہ دوسری صورت میں۔۔۔ دوسری صورت علاقے کے فوجی محاصرے سے صاف ظاہر ہے۔
ایک خصوصی رپورٹ برائے ابنا از پاراچنار
مزارشہید قائد پیواڑ محاصرے میںحکومت پیواڑ میں خروٹیوں کیلئے خمزئے پر ایک نیا روڈ زبردستی گذارنا چاہتی ہے جو سوائے دہشت گردی کے اور کسی کام کیلئے نہیں ہے۔ پیواڑٰ والے اس روڈ کو روکنا چاہتے ہیں۔ لیکن حکومت کہہ رہی ہے کہ چاہے جو کچھ بھی ہو ہم اس روڈ کو ضرور تعمیر کریں گے۔ لہذا حکومت نے تین دنوں سے پورے پیواڑ کا محاصرہ کیا ہوا ہے۔ پیواڑ کے بیسیوں افراد کو گرفتار کیا ہے کے پاراچنار شہر میں پیواڑ کے باسیوں کی کاروباری زندگی کو سیل کیا ہے۔ پیواڑ کے اساتذہ، ڈاکٹرز اور دوسرے محکموں سے تعلق رکھنے والے ملازمین کے کام پر حاضر نہ ہونے کی وجہ سے اسکول کالج اور ہسپتال بہت متاثر ہوئے ہیں۔مری معاہدے کے مطابق حکومت کو پہلے ٹل پاراچنار روڈ کو محفوظ کرنا تھا جو کہ محفوظ نہیں ہے اور متعدد دھماکے ہوئے ہیں اور ہورہے ہیں اور کئی افراد اب تک شہید ہوچکے ہیں؛ ٹل پاراچنار روڈ پر کئی ریموٹ بم دھماکے ہوئے اور پاراچنار شہر میں دھماکہ کیا گیا جس کی ذمہ داری دہشت گرد ٹولے نے قبول کی ہے۔ بالش خیل کے ہزاروں جریب زمین پر پر غیرقانونی آبادکاری ابھی تک جاری ہے پیواڑ کے پہاڑوں کو دشمن مسلسل لوٹ رہے ہیں۔ اور پیواڑ کے زمینوں پر غیرقانونی آبادی کی جارہی ہے۔ پیواڑ پر پانی بند ہے۔ نرئے جو علیشاری کی ملکیتی زمین ہے وہ ان کو نہیں مل رہا ہے صدہ میں ہمارے املاک ابھی تک دشمنوں کے قبضے میں ہیں۔ شلوزان تنگی میں شلوزان والوں پر پہاڑسے لکڑی کا ٹنا بند ہے لیکن پیواڑ تنگی میں پیواڑ والوں کے پہاڑ کو دشمن مسلسل لوٹ رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا مری معاہدہ صرف تکفیریوں کے حقوق کیلئے ہیں یا اس میں اہل تشیع کا بھی کوئی حصہ ہے؟اس وقت پیواڑ گاؤں کا رابطہ پورے کرم ایجنسی سے منقطع ہے ٹینکوں بکتربند گاڑیوں سے اور ایف سی کے ذریعے پیواڑ گاؤں کا محاصرہ کیا جاچکا ہے۔کل سید عابد الحسینی نے پیواڑوالوں سے اظہار یکجہتی کیلئے پاراچنار شہر سے پیواڑ تک ایک لانگ مارچ بھی کیا جس میں سینکڑوں گاڑیوں کے ذریعے ہزاروں لوگوں نے شرکت کی اور پیواڑ میں خمزئے روڈ کے خلاف ایک عظیم اجتماع کا انعقا د کیا گیا جس میں مجلس اہلبیت (ع) کے آقائے ہلال حیدری، تحریک حسینی کے صدر محمد تقی اور آقائے محمداللہ نے تقاریر کیں اور حکومت پر ثابت کیا کہ ہم بیدار ہیں اب ہمار ا کوئی بھی حق انشاءاللہ کوئی پامال نہیں کرسکے گا اور اس کیخلاف مزاحمت انشاء اللہ جاری رہے گی؛ اگر حکومت نے پورے طور پر اس روڈ کی تعمیر نہ روکی ۔ توآئندہ جیل بھرو تحریک کا اعلان کیا جائے گا پھر ساری شیعہ قوم جیل کا رخ کرے گی۔ اس لانگ مارچ کو روکنے کیلئے حکومت نے مختلف سطح پر مختلف سازشیں بھی کیں لیکن کربلائی جذبے سے سرشار عوام نے حکومت کی رکاوٹوں کو پاؤں تلے روند ڈالا۔رپورٹر برادر طوری نے آخر میں لکھا: بھائی جان یہاں بجلی نہیں ہے چنانچہ جو کچھ لکھا عجلت میں لکھا دیکھتے ہیں کہ کیا حکومت پاکستان اور پاکستان آرمی یا سیاسی جماعتوں میں ہے کوئی جو پاراچنار کے مظلوموں کا مسئلہ قومی اور بین الاقوامی سطح پر اٹھائے؟بے شک یہ ایک سنجیدہ سوال ہے ان تمام لوگوں سے جو کسی نہ کسی عنوان سے استقلال اور آزادی اور انسان دوستی اور دکھی انسانیت کی حمایت کے راگ الاپ رہے ہیں؛ کہ کیا پانچ برسوں سے دنیا کی تاریخ میں آج تک رونما ہونے والے تمام انسانیت سوز مظالم کو اکیلے سہنے والے پاراچناری عوام انسان اور مسلمان نہيں ہیں؟ کیا حکومت پاکستان اپنے دشمنوں کو اپنے دوستوں پر مسلط کرنے کی اتنی طویل المدت سازشوں اور اقدامات سے اکتائے گی نہيں؟ کیا خوابیدہ ضمیر انسانوں کے ضمیر ان کی موت کے بعد جاگیں گے؟
پاراچنار، علامہ عابد الحسینی کی قیادت میں لانگ مارچ پیواڑ کی طرف روانہ جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے مقررین کا کہنا تھا کہ کہ پیواڑ کے عوام کی ملکیتی زمین اور پہاڑی پر ہم سے پوچھے بغیر دوسری سڑک کی تعمیر دراصل طالبان کو راستہ و سڑک بنانے کی کوشش ہے، لیکن ایسا کرنے سے پہلے حکومت کو ہماری لاشوں سے گزرنا پڑ ے گا۔طوری بنگش قبائلی جرگہ نے اعلان کیا ہے کہ پاک افغان بارڈر پر واقع گائوں پیواڑ میں اپنی ملکیتی زمین پر طالبان کے لئے سڑک کی تعمیر نہیں ہونے دیں گے۔ کرم ایجنسی میں جمعتہ البمارک کے دن حالات اس وقت کشیدہ ہو گئے جب حکومت اور سکیورٹی فورسز نے پاک افغان بارڈر پر واقع گاؤں میں پیواڑ میں طوری قبیلے کو اعتماد میں لئے بغیر بھاری مشینری سے نئے روڈ کی تعمیر شروع کر دی۔ طوری قبیلے کی ملکیتی زمیں پر طاقت کے بل بوتے پر روڈ کی تعمیر کی خبر پوری کرم ایجنسی میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔جس کے بعد طوری بنگش قبائلی عمائدین نے ہنگامی جرگہ طلب کرکے اس روڈ کی تعمیر روکنے کے لئے کرم ایجنسی کے مختلف مقامات سمیت پاراچنار سے علامہ سید عابد حسین الحسینی کی قیادت میں لانگ مارچ پیواڑ کی طرف روانہ ہو گیا، جس میں ہزاروں افراد شریک ہیں۔ جرگے سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ پیواڑ میں پہلے ہی سے ایک سڑک موجود ہے جس پر پیواڑ کی طوری قوم کی نگاہیں ہیں، انہوں نے الزام عائد کیا کہ پیواڑ کے عوام کی ملکیتی زمین اور پہاڑی پر ہم سے پوچھے بغیر دوسری سڑک کی تعمیر دراصل طالبان کو راستہ و سڑک بنانے کی کوشش ہے، لیکن ایسا کرنے سے پہلے حکومت کو ہماری لاشوں سے گزرنا پڑ ے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ کرم ایجنسی کے عوام امریکہ اور طالبان کو ایک ہی سکے کے دو رخ سمجھتے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ کی آڑ میں کرم ایجنسی کو دوسرا وزیرستان بننے کی اجازت نہیں دے سکتے، اسلئے حکمران ریاستی جبر اور سوتیلی ماں جیسا سلوک و رویہ ترک کرکے ہوش کے ناخن لیں۔ٓ
واضح رہے کہ طالبان کے جلال الدین حقانی نیٹ ورک کی بڑی نفری شلوزان کے پہاڑوں میں کوہ سفید کے اندرونی دروں میں تعینات ہیں جن کو تری منگل اور اسپینہ شگہ کے راستے افغانستان جانے کے لئے سڑک کی ضرورت ہے اور حکومت پاکستان ایک بار پھر ان دہشت گردوں کے مفاد میں ایک پھر شیعہ آبادی کے خلاف دباؤ بڑھا رہی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/110