13 اپریل 2012 - 19:30

گلگت ميں کرفیو کے نفاذ کی وجہ عام لوگوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگيا ہے.

ابنا: گلگت ميں سنيچر کو بھي کرفيو جاري رہا۔ اسي کے ساتھ شہر ميں موبائل فون سروس بھي بدستور بند ہے جس کي وجہ سے لوگوں کو کافي مشکلات کا سامنا ہے۔ اس کے علاوہ مسلسل کرفيو کي  وجہ سے  کھانے پينے کي اشيا کي شديد قلت ہوگئي ہے جبکہ اسپتالوں ميں دواؤں اور وسائل کي کمي کي وجہ سے مريضوں کے علاج معالجے ميں بھي مشکلات کا سامنا ہے۔  دوسري جانب پاکستان کے وزير داخلہ رحمان ملک نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان ميں شيعہ مسلمانوں کے خلاف دہشتگردانہ کاروائيوں ميں  تيسرا ہاتھ ملوث ہے۔

انہوں نے اس بات کي وضاحت نہيں کي کہ تيسرے ہاتھ سے ان کي مراد کيا ہے - يہ ايسي حالت ميں ہے کہ جمعے کو  اسلام آباد، لاہور ، کراچي، کوئٹہ اور شمالي علاقہ جات کے علاقے اسکردو   سميت پاکستان کے مختلف علاقوں ميں نماز جمعہ کے بعد شيعہ مسلمانوں کے قتل عام کے خلاف مظاہرے کئے گئے تھے۔ اسلام آباد ميں پارليمنٹ ہاؤس کے سامنے ہزاروں شيعہ مسلمانوں کا احتجاجي اجتماع جمعے کو دير رات تک جاري رہا۔

پاکستان کے سرکاري ذرائع نے بتايا ہے کہ وزير داخلہ رحمان ملک سے مجلس وحدت مسلمين پاکستان کے رہنما مولانا امين شہيدي کے مذاکرات کے بعد پارليمنٹ کے سامنے دھرنا ختم کرديا گيا ہے۔.......

/169