ابنا: کوفی عنان نے کہا کہ شام کے مسئلہ کو پرامن طریقوں سے حل کرنے کی ضرورت ہے۔ کوفی عنان نےشام کے بحران کو حل کرنے کےلئے اپنی چھے نکاتی تجویز کے بارے میں کہا کہ شام اور اسکے مخالفین نے اس تجویز کو تسلیم کیا ہے اوراس میں سارے مسائل کو پرامن طریقوں سے حل کرنے پر تاکید کی گئي ہے۔انہوں نے کہا کہ شام کے بحران کو پرامن طریقے سے حل کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہاکہ شام کی حکومت نے تشدد ختم کرنے پر مبنی مخالفین کی تحریری ضمانت کا مطالبہ کیا ہے اور اپنے مواقف کو واضح کردیا ہے۔
کوفی عنان نے شام کے باغیوں سے کہا کہ وہ حملے بند کردیں اور جنگ بندی کا احترام کریں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ جمعرات کو صبح چھے بجے سے شام کی صورتحال میں بہتری آنے لگے گي مسائل تیزی سے حل ہوتے جائيں گے۔ کوفی عنان نے ان کی چھے نکاتی تجویز کے حق میں اسلامی جمہوریہ ایران کی حمایت کو سراہتے ہوئے کہا کہ تشدد کو ختم کرنے کے لئے کسی راہ حل کا حصول نہایت اہمیت کا حامل ہے ۔
ادھر کوفی عنان نے آج تہران میں اسلامی جمہوریہ ایران کی اعلی قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری جنرل سعید جلیلی سے ملاقات کی۔ اس موقع پر سعید جلیلی نے کہا کہ شام کا مسئلہ تمام فریقوں کے جمہوری اصولوں پر کاربند رہنے سے حل ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کوفی عنان سے ملاقات میں کہا کہ ایران علاقائي اور عالمی بحرانوں کو حل کرنے میں جمہوریت اور عوام کے مطالبات کو بنیادی اہمیت دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تہران نے شام کے تعلق سے یہ تاکید کی ہےکہ اس ملک کا بحران عوام کی امنگوں کے مطابق اور بیرونی مداخلت کےبغیر حل کیا جائے۔
انہوں نےکہا کہ اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے کامشن اسی صورت میں کامیاب ہوسکتا ہے جبکہ تجویزیں اور نظریات شام کے زمینی حقائق کے مطابق ہوں اور سارے فریق جمہوریت کے اصولوں کے پابند رہیں۔ سعید جلیلی نے کہا کہ شام کے بحران کو دومرحلوں میں حل کیا جائے۔ پہلے مرحلے میں ایسے اقدامات کئےجائيں جن کے تحت شام کے مخالف مسلح گروہ اور ان گروہوں کی حمایت کرنے والے ممالک جو فوجی مدد کے ذریعے شام کی سرحد پر بفر زون بنانا چاہتے ہیں ان کی کاروائياں بند کی جائيں۔ انہوں نے کہا کہ دوسرے مرحلے میں پارلمانی انتخابات اور آئين کی ترمیم کے اقدامات کئے جائيں اور مقررہ مدت میں منتخب حکومت برسر کار آئے۔.......
/169