ابنا: قرائن سے پتہ چلتا ہے کہ سعودی عرب مصر کی سابق حکومت کے پٹھوؤں کو استعمال کر کے اس ملک کے انتخابی میدان میں اتر پڑا ہے۔ اور وہ مصر کے انقلاب کو نقصان پہنچانے کا ارادہ رکھتا ہے۔مصر کے معزول ڈکٹیٹر حسنی مبارک کی حکومت کی خفیہ ایجنسی کے سربراہ عمر سلیمان کی حمایت اور اخوان المسلمین کے نامزد کردہ امیدوار کی کامیابی کی راہ میں روڑے اٹکانا مصر کے انقلاب اور عوام کے خلاف سعودی عرب کی سازش کا ایک حصہ ہے ۔ البتہ عرب ممالک کی انقلابی تحریکوں سے متعلق سعودی عرب کے منفی کردار کا دائرہ مصر تک محدود نہیں ہے۔ سعودی عرب اس وقت معزول ڈکٹیٹروں کی پناہ گاہ بن چکا ہے۔
تیونس کا ڈکٹیٹر گزشتہ ایک برس سے سعودی عرب میں پناہ لۓ ہوۓ ہے۔ ریاض نے یمن کے معزول ڈکٹیٹر علی عبداللہ صالح کی میزبانی کے لۓ بھی اپنی خدمات پیش کی ہیں۔ بحرین میں بھی سعودی عرب آل خلیفہ کی حمایت کے ذریعے عملی طور پر عوامی انقلاب کا مقابلہ کررہا ہے۔ بحرینی عوام کے قتل عام کے سلسلے میں سعودی عرب کے فوجیوں کی جانب سے آل خلیفہ کے فوجیوں کا ساتھ دیۓ جانے سے یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ ریاض بدستور خطے میں ڈکٹیٹروں اور ڈکٹیٹر حکومتوں کی حمایت کررہا ہے۔ سعودی عرب نے خطے کے عرب ممالک میں جاری انقلابی تحریکوں کو کچلنے کے لۓ ان ممالک کے حکام کو بے تحاشا دولت سے نوازا ہے لیکن شام کے سلسلے میں اس نے ایسا نہیں کیا ہے۔
ریاض نے دوحہ کے ساتھ مل کر شام کے عوام کی حمایت کے بہانے اس ملک کے خلاف دشمنی کا پرچم اٹھا رکھا ہے اور امریکہ کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوۓ بشار اسد کی حکومت کے ساتھ دشمنی کو اپنا وطیرہ بنا لیا ہے۔ اور جہاں تک عراق کا تعلق ہے تو سعودی عرب عراق کی عدالت اور پولیس کو مطلوب اس ملک کے نائب صدر طارق الہاشمی کو پناہ دے کر بغداد حکومت کو کمزور کرنے کے درپے ہے۔ طارق الہاشمی پر دہشتگردانہ واقعات میں ملوث ہونےکے الزام میں بغداد میں مقدمہ چلنا چاہۓ لیکن اس کے باوجود ریاض نے اسے دعوت دے کر اپنے یہاں بلا لیا ہے تاکہ وہ ہمیشہ سعودی عرب میں رہ سکے۔ سعودی عرب کے ان اقدامات کو بغداد حکومت کے ساتھ دشمنی کی علامت اور عراق کے داخلی امور میں مداخلت سے تعبیر کیا جارہا ہے۔ عرب ممالک کی انقلابی تحریکوں اور خطے کے ممالک سے متعلق سعودی عرب کے اقدامات اور مواقف سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ اس وقت سعودی عرب ان ممالک پر دباؤ ڈالنے کے سلسلے میں امریکہ کا آلۂ کار بن چکا ہے جن کو واشنگٹن اپنا دشمن جانتا ہے یا جن ممالک میں امریکہ کے مفادات پاۓ جاتے ہیں۔.......
/169