تحریک اسلامی پاکستان کے سربراہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے گلگت میں مظاہرین اور سیکورٹی فورسز کے مابین جھڑپوں اور چلاس کے قریب گونر فارم میں حملے کے نتیجے میں 17 معصوم اور بے گناہ افراد کی شہادت کی اطلاع اور متعدد افراد کے شدید زخمی ہونے پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ سوچی سمجھی منصوبہ بندی اور گہری سازش کے تحت پہلے سانحہ کوہستان کا رونما ہونا اور اس کے فوراً بعد اتنا بڑا سانحہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ اس کے پیچھے ایسے عناصر اور قوتیں کارفرما ہیں جو انتہائی طاقتور ہیں۔ انھوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس سانحہ کے پس پردہ حقائق منظر عام پر لانے کے لئے اعلی سطحی عدالتی کمیشن کا قیام میں لائے، قاتلوں اور ان کے سرپرستوں کو بے نقاب کرے۔ علامہ ساجد نقوی کے سیکریٹری اطلاعات نے کہا کہ اگر ذمہ داران سانحہ کوہستان کے مجرموں اور قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچاتے اور متاثرہ عوام کے جائز اور اصولی مطالبات پر عمل درآمد کیا جاتا تو سانحہ چلاس رونما نہ ہوتا۔انھوں نے اس سانحہ میں شہید ہونے والوں کے لواحقین و پسماندگان سے دلی دکھ اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے زخمیوں کی جلد صحت یابی کی بھی دعا کی اوراسلامیان پاکستان سے اپیل کی کہ اس سانحہ پر ہر سطح پر قانون اور آئین کے دائرے میں رہ کر صدائے احتجاج بلند کریں اور باہم متحد ہوکر فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور اتحاد و وحدت کے دشمن ملک کے بدخواہوں کو واضح پیغام دیں کہ وہ مٹھی بھر شرپسندوں کے عزائم کو ناکام بنائیں گے۔اس موقع پر جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے سانحہ چلاس پر علامہ ساجد نقوی سے اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا ہے کہ بعض سازشی عناصر گلگت بلتستان میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے کے درپے ہیں اورفرقہ وارانہ فسادات اور فرقہ وارانہ دہشت گردی کے ذریعہ ملک بھر اور گلگت کے داخلی امن و سلامتی کو شدید نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سیکریٹری اطلاعات کا پیغامتمام مومنین سے گذارش ہے کہ افواہوں کی طرف توجہ نہ کریں - انتظامیہ شہداء کے جنازہ کو حوالہ کرنے سے گریز کر رہی ہے۔ تمام مومنین سے گذارش ہے کہ افواہوں کی طرف توجہ نہ کریں اور گلگت کے تمام تر حالات اور اعلانات کیلیٔے مرکزی انجمن امامیہ سے وابستہ رہیں. شدید کرفیو اور ناانصافی کی وجہ سے تمام نیٹ ورک بند کر دیے گیٔے ہیں لہذا مرکزی انجمن امامیہ سے رابطہ کیلیٔے درج ذیل نمبر پر رابطہ کریں:005811453023جعفریہ پریس کی آخری رپورٹ کے مطابق شہداء کے جنازے گلگت شہر میں پہنچ چکے ہیں لیکن انتظامیہ شہداء کے جنازہ کو حوالہ کرنے سے گریز کر رہی ہے. گلگت سمیت تمام شیعہ آبادیوں میں شدت سے کرفیو نافذ کردیا گیا ہے جب کہ شر پسندوں کے علاقے کھلے اور ان کی سرگرمیاں جاری ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔حقائق چھپائے جا رہے ہیں جو بہت بڑی تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہونگےیہ بات روز روشن کی طرح واضح ہے کہ گلگت میں لڑائی مظاہرین اور فورسز کے مابین ہوئی مگر چلاس میں لوگوں کو اُکسا کر معصوم جانوں سے خون کی ہولی کھیلی گئی۔ وحشت وبربریت اور درندگی کا مظاہرہ کیا گیا۔ ان لوگوں کو کس نے اُکسایا؟ امن و امان کے قیام کے ذمہ دار اداروں کی کارکردگی پر یہ سوالیہ نشان ہے؟۔ ان خیالات کا سربراہ اسلامی تحریک پاکستان کے مرکزی ترجمان سید سکندر عباس گیلانی ایڈووکیٹ نے گلگت و چلاس کے واقعات پر بعض اخباری رپورٹوں کے حوالے سے کیا۔انہوں نے کہا کہ یہ اُسی زہریلی پالیسی کا تسلسل ہے جو اس ملک میں چلائی جا رہی ہے جنونی قسم کے لوگوں کو بڑھاوا دیا جا رہا ہے، سرپرستی کی جارہی ہے اور پالا پوسا جا رہا ہے جو ملکی داخلی سلامتی کیلئے انتہائی خطرناک ہے۔ بڑے بڑے سانحات کے باوجود نہ عوام کو حقائق سے آگاہ کیا گیا، نہ دہشتگردوں کو پکڑا گیا اورنہ ہی اُن کے سرپرستوں کو بے نقاب کر کے قرار واقعی سزاد ی گئی۔ترجمان نے کہا کہ کراچی اور کوئٹہ میں گذشتہ کافی عرصے سے تسلسل کے ساتھ ٹارگٹ کلنگ جاری ہے روزانہ بے گناہ و معصوم شہریوں کو بے جرم و بے خطا شہید کیا جا رہا ہے مگر حکومتیں ٹس سے مس نہیں ہورہیں۔ انتہائی ڈھٹائی کے ساتھ امن و امان کے قیام کے بلند بانگ دعوے کیے جاتے ہیں مگر مثبت نتائج سامنے نہیں آرہے۔ترجمان نے مزید کہا کہ اس وقت ملک میں عدلیہ آزاد ہے۔ حکومتیں اپنے تمام تر دعووں کے باوجود عوام کی جان و مال کے تحفظ میں بری طرح ناکام ہو چکی ہیں اور بے بسی کا قبیح منظر پیش کررہی ہیں۔ کیا عدلیہ از خود نوٹس لے کر امن و امان کے قیام کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ کوتاہی اور تساہل برتنے والے ذمہ داران کیخلاف بھر پور کارروائی عمل میں لا کر عوام کے اعتماد کو بحال کرے گی؟سیکرٹری اطلاعات۔۔۔۔۔۔۔/110
6 اپریل 2012 - 19:30
News ID: 307130
انھوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس سانحہ کے پس پردہ حقائق منظر عام پر لانے کے لئے اعلی سطحی عدالتی کمیشن کا قیام میں لائے، قاتلوں اور ان کے سرپرستوں کو بے نقاب کرے۔