3 اپریل 2012 - 19:30

اسلام آباد…گلگت اور چلاس ميں گزشتہ روز کے فسادات کي ابتدائي رپورٹ ،وفاقي حکومت کو بھجوادي گئي ہے.

ابنا: وفاقي وزارت داخلہ نے کہاہے کہ سکيورٹي وجوہات پر گلگت ميں موبائل فون کي تمام سروسز معطل کردي گئي ہيں گزشتہ روز کے فائرنگ اور حملوں کے واقعات کي اطلاعات گلگت بلتستان کي انتظاميہ، پوليس و اسکاوٹس کي طرف سے بھيجي گئي ہيں. ان ميں کہاگياہے کہ مولاناعطاء اللہ کي 3 روز قبل گرفتاري کے خلاف گلگت ميں گزشتہ روز احتجاجي ريلي نکالي گئي،اہلسنت والجماعت کي ريلي پر ہينڈ گرينيڈ سے حملہ ہوا اور فائرنگ بھي کي گئي، 6 افراد ہلاک ہوئے، اس کے بعد پوليس نگراني ميں چلاس جانے والي 4 بسوں کا تقريبا 40 موٹرسائيکل سواروں نے گھيراو کرليا،موٹرسائيکل سواروں کے حملہ سے 9 افراد ہلاک ہوئے جبکہ 4 مسافر جان بچاتے دريا ميں کود کر ڈوب گئے، حملہ آوروں نے بسوں ميں سوار خواتين کو کچھ نہيں کہا ، رپورٹ کے مطابق حملہ آور موٹرسائيکل سواروں سے تصادم ميں 5 پوليس اہلکار زخمي بھي ہوئے ، ادھر وزارت داخلہ نے بتاياہے کہ وزيرداخلہ رحمان نے گلگت ميں تمام موبائل فون کے آپريشنز معطل کرنے کا حکم دے ديا ہے جس پر عمل درآمد بھي شروع ہوگيا ہے. ......../169