1 اپریل 2012 - 19:30

کراچي… حکومت ملک کو قرض کے اندھے کنويں ميں دھکيلنے کے بعد اس کنويں کو مزيد گہرا کرنے کي فکر ميں ہے.

ابنا:  اپريل سے جون کے دوران حکومت 10کھرب سے زائد کا قرض لينے کا ارادہ رکھتي ہے پاکستاني حکومت کا خزانہ اس گلاس کي مانند ہے جس کے پيندے ميں سوراخ ہو،جتنا پاني ڈالو سب آہستہ آہستہ رس جاتا ہے.

ذرائع کے مطابق بڑھتے اخراجات اور محدود آمدني کے باعث حکومت اپريل سے جون کے تين مہينوں کے دوران 1 ہزار 85 ارب روپے قرض لينے کا ارادہ رکھتي ہے. حکومت يکم جولائي 2011 تا 16 مارچ 2012 کے دوران پہلے ہي 975 ارب روپے قرض حاصل کرچکي ہے. جو گزشتہ سال کے اسي عرصے کے مقابلے ميں دگنا ہے.

اس سلسلے ميں اسٹيٹ بينک آف پاکستان اپريل سے جون کے دوران 995 ارب روپے کے ٹي بلز، 50 ارب روپے کے اسلامک بانڈز اور 40 ارب روپے کے پاکستان انوسٹ منٹ باندز فروخت کرے گا جس سے حکومت قومي خزانے کا پيٹ بھرنے کي کوشش کرے گي مگر ماہرين کہتے ہيں کہ جب دودھ کي حفاظت پر بلي کو بٹھاديا جائے تواکثر صورت حال خراب ہي ہوجاتي ہے. بڑھتے اخراجات اور آئي ايم ايف کو قرض کي واپسي کے اغاز کے باعث رواں مالي سال ، مالي خسارہ رکارڈ سطح پر پہنچ سکتا ہے.  ........

/169