1 اپریل 2012 - 19:30

شام کي حکومت نےاعلان کیاہے کہ شام کے بارے میں امریکہ اور اس کے عرب اتحادیوں کی پالیسی کو ناکام اورشام کے صدر بشار اسد کو ہٹانے کي غرض سے ايک سال سے جاري دہشت گردی اوربغاوت کی تحریک کو شکست سے دوچارکرديا ہے۔

ابنا: شام کي حکومت نےاعلان کیاہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادی گذشتہ ایک سال سے شامی حکومت اور عوام کے خلاف ریشہ دوانیوں میں مصرف رہے ہیں اور شامی عوام کے دشمنوں کی کارروائیاں اب بھی جاری ہیں لیکن شامی عوا ماور حکومت نے ملکرصدر بشار اسد کو ہٹانے کي غرض سے ايک سال سے جاري دہشت گردی اوربغاوت کی تحریک کو ناکام بنا ديا ہے۔

شامی وزارت خارجہ کے ترجمان جہاد المقدسي نے اخبار نويسوں کے ساتھ گفتگو ديتے ہوئے کہا کہ صدر بشارالاسد کی حکومت گرانے کي تمام کوششيں ناکام بنا دي گئيں. اب ہمارا مقصد ملک ميں استحکام اور امن کو يقيني بنانا ہے اور ملک کو ترقي کي راہ پر گامزن کرنا ہے.

ترجمان نے کہا کہ بعض قوتوں کي جانب سے شام میں اصلاحات کا عمل ناکام بنانے کا راستہ روکيں گے. ترجمان نے واضح کيا کہ اقوام متحدہ امن مشن معاہدے کے بعد شہروں سے فوجي انخلاء کا عمل شروع کيا جائيگا. واضح رہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادی عرب ممالک ایک سال سے شام کی حکومت کو گرانے کی کوشش کررہے ہیں لیکن انھیں اس میں سخت شکست اور ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

امریکہ نےعلاقہ میں اپنے عرب اتحادیوں کے زوال کو روکنے کے لئے عرب ممالک میں جاری عوامی تحریک کا رخ شام کی طرف موڑنے کی بہت کوشش کی اور اس کام میں امریکہ کو اپنے عرب اتحادیوں کی بھر پور حمایت حاصل تھی لیکن شام کے معاملے میں امریکہ کو اپنے عرب اتحادیوں سمیت زبردست شکست کھانی پڑی ہےکیونکہ شا م میں فوجی مداخلت کی امریکہ اور عربوں کی جانب سے پیش کی جانے والی قرارداد کو روس اور چین نے ویٹو کردیا اور شامی عوام نے بھی امریکہ اور امریکہ نواز عربوں کی مذموم کوششوں کو مظاہروں کے ذریعہ ناکام بنادیا۔   ......../169