25 مارچ 2012 - 19:30

شیعہ اسیر بشارت زیدی جو کہ ایک جھوٹے کیس میں اسیر تھے، سینٹرل جیل میں دھشتگردوں نے بے دردی سے گلا کاٹ کر ذبح کردیا۔

ابنا: مزید اطلاعات کے مطابق شھید بشارت زیدی کو متعصب پولیس اہلکاروں نے ستمبر 2011 میں حراست میں لیا تھا، اور مارچ 2012 میں دھشتگردوں نے انھیں سیکورٹی اداروں کے حراست میں بے دردی کے ساتھ ذبح کردیا۔

اس سے پہلے شہید قلندر بخش کو سکھر جیل میں وہابی دہشتگردوں نے حملہ کرکے زخمی کردیا تھا اور انہیں جیل سے اسپتال منتقل کیا گیا تھا اور وہ کئی ہفتوں تک کومے میں تھے اور جس دن وہ ہوش میں آگئے اور پولیس کے سوالات کا جواب بھی دیا لیکن اسی دن پولیس کی حراست میں ہونے کے باوجود اسپتال میں ہی شہید ہوگئے جس کی وجہ سے یہ سوال اٹھا کہ کیا وہ دوبارہ اسپتال میں دہشت گرد نیٹ ورک کے حملے کا نشانہ نہیں بنے؟ دہشت گردوں کا نیٹ ورک گویا پاکستانی سیکورٹی اداروں پر مسلط حتی کہ جیلوں پر بھی اس کا قبضہ ہوچکا ہے اور یہ سوال بھی اٹھ رہا ہے کہ جیل میں حتی قیدیوں کو ایک سوئی رکھنے کی اجازت نہیں ہوتی تو ان کو ہتھیار کون پہنچا رہا ہے؟ کیا سیکورٹی والوں کے اندر ہی دہشت گرد نیٹ ورک موجود نہیں ہے؟

واضح رہے کہ شہید قلندر بخش کالعدم دہشتگرد تنظیم کے علی شیر حیدری کے قتل کے الزام میں قید تھے جن کو چند روز قبل سکھر جیل میں وھابی ناصبی دہشتگردوں نے حملہ کرکے زخمی کردیا تھا۔

آج ان کے ہاتھ یہاں تک لمبے ہوگئے ہیں کہ وہ پہلے تو شیعہ نوجوانوں کو جھوٹے کیس ڈال کر گرفتار کرکے جیلوں میں پہنچا دیتے ہیں اور پھر ان پر حملہ کرکے انہیں قتل کرتے ہیں۔

واضح رہے کہ پچھلے دنوں سکھر جیل پر قابض کالعدم دہشت گرد ٹولوں نے اپنے حملے میں شہید قلندر بخش سمیت متعدد دوسرے شیعہ قیدیوں کو بھی زخمی کردیا تھا۔

شھید بشارت زیدی کی میت کو سول اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔

کوئٹہ میں بھی ایک شیعہ نوجوان کو شہید کیا گیا ہے:

شیعہ نوجوانوں پر درندہ صفت یزیدیوں کا حملہ،ایک شھید،ایک زخمی

بشکریہ از شیعہ کلنگ

.......

/169-110