25 مارچ 2012 - 19:30

موجودہ شیعہ وکلا کی شہادت حکومتی غفلت کے سبب ہوئی۔ تحقیقاتی اداروں نے 10 دن پہلے آگاہ کیا تھا۔ ذرائع کا دعوی.

ابنا:  پاکستان کے حساس ترین اداروں نے صوبائی اور وفاقی حکومتوں کو آگاہ کیا تھا کہ کراچی میں عنقریب بڑے پیمانے پر ملت تشیع سے تعلق رکھنے والے افراد کو ٹارگٹ کیا جاسکتا ہے۔ جس میں ملت تشیع سے تعلق رکھنے والے وکلا حضرات، ڈاکٹرز اور ملت میں موجود سرگرم افراد شامل ہوسکتے ہے۔

ذرائع نے دعوی کیا ہے کہ حکومتی اداروں کو کالعدم ملک دشمن جماعت سپاہ صحابہ/ لشکر جھنگوی کے ٹھکانوں کے بارے میں بھی آگاہ کیا گیا تھا۔ بتاگیا تھا کہ کالعدم سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی کے دہشتگرد کراچی کے مختلف علاقوں مین سرگرم ہورہی ہے جن میں ڈرگ روڈ، ناگن چورنگی، فیڈرل بی ایریا، سرجانی ٹاون، کورنگی صنعتی ایریا، اور ابراہیم حیدری، شامل ہے۔ البتہ سکیورٹی اداروں کو شک تھا کہ کھوکھراپار کے چند علاقے فرقہ وارانہ دہشتگردوں کا مرکز ہے۔

افسوس!! تمام تر معلومات کے بعد بھی حکومتی اداروں کی طرف سے کوئی سکیورٹی دیکھنے میں نا آئی۔ تمام ترانٹیلیجنس ناکام نظر آئی۔ دہشتگردوں نے با آسانی وکلا کو نشانہ بنایا اور واپس اپنے مرکز کی جانب بھاگ گئے مگر حکومتی ادارے اور نام نہاد سکیورٹی ادارے4 پر رپورٹ ہی دیتے نظر آئے۔اب یوں محسوس ہوتا ہے کہ یہ سیکیورٹی ادارے خود ہی اس ٹارگٹ کلنگ میں ملوث ہیں۔

یاد رھے کہ گذشتہ کچھ دنوں میں کراچی میں علم قانون سے تعلق رکھنے والے شیعہ افراد پہ در پہ بہت بڑی تعداد لقمہ اجل بنے۔ جس میں شھید ایڈوکیٹ مختار بخاری، شھید کوثر زیدی،ملت کے قانونی مشیر شھید عسکری رضا، ایک ہی خاندان کے تین شیعہ وکلاء کی شہادت کے بعد ایک ہی گھر کے دو وکلاء کی شہادت حکومت کے لئے ایک لمحہ فکریہ ہیں۔

.......

/169