23 مارچ 2012 - 19:30

انٹرنیٹ پر سعودی شہزادوں کے درمیان شدید اختلافات کے انکشاف سے ظاہر ہوتا ہے کہ سعودی حکام میں اعلی ترین سطح پر بدعنوانی اور نہایت گہرے اندرونی اختلافات پائے جاتے ہیں۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق  امریکی روزنامے فائننشل ٹائمز نے "ٹویٹر صارفین جرأتمندانہ انداز سے سیاسی منازعات کو ہوا دے رہے ہیں" کے زیر عنوان اپنی رپورٹ میں ایک سعودی صارف کی سرگرمیوں کی طرف اشارہ کیا ہے جو "مجتہد" کے نام سے آل سعود کے شہزادوں کے درمیان موجودہ اختلافات کو فاش کررہا ہے اور آل سعود کے تمام شہزادوں کےناجائز و ناروا کرتوتوں پر سے پردہ اٹھاتا ہے اور ان پر تنقید کرتا ہے۔اس رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کے تمام انٹرنیٹ صارفین نے "مجتہد" کا نام سن رکھا ہے لیکن کوئی بھی یہ نہیں جانتا کہ مجتہد ہےکون، اس کا چہرہ کیسا ہے، کہاں رہتا ہے؟ لیکن سب اس کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں۔ فائننشل ٹائمز نے اپنی رپورٹ کے ساتھ ایک نقابدار خاتون کی تصویر بھی شائع کی ہے جس کے ہاتھ میں موبائل فون بھی ہے اور لکھا ہے کہ اس نہایت جری صارف نے 2011 کے آخری مہینوں سے آل سعود کی اندرونی صورت حال کو افشاء کرنا شروع کیا ہے اور سب سے پہلی بار اس نے آل سعود کے بعض شہزادوں کی بدعنوانیوں اور اخلاقی برائیوں کے بارے میں رپورٹ شائع کی تھی اور اس کے بعد اس نے آل سعود کی ترسیم کردہ تمام حدود کو پھلانگ دیا ہے۔مجتہد نے شہزادہ عبدالعزیز بن فہد کے بارے میں لکھا ہے: یہ شخص اپنے والد کی بادشاہت کے ایام میں تمام وزراء اور امراء سے زیادہ طافتور تھا لیکن اس نے عوام کی رہائش کا مسئلہ حل کرنے کے لئے کوئی قدم نہیں اٹھایا۔ فائننشل ٹائمز لکھتا ہے: عرب دنیا میں مجتہد کے دولاکھ پچاس ہزار پرستار ہیں جن میں عرب امارات کے ایک پروفیسر "عبدالخالق عبداللہ" بھی شامل ہیں اور عبدالخالق عبداللہ نے مجتہد کو "ویکیلیکس کا سعودی ورژن" قرار دیا ہے۔ روزنامے نے لکھا: سعودی عرب کے عوام مجتہد کی تحریروں کو ہاتھوں ہاتھ لیتے ہیں جس کی وجہ سے سعودی عرب کے مفتیوں کو شدید خدشات لاحق ہوگئے ہیں اور وہ مجتہد کے اقدامات سے سخت غضبناک ہیں۔یاد رہے کہ آل سعود کے درباری مفتیوں نے حال ہی میں فتوی دے کر ٹویٹر کے صارفین کو اس ویب سائٹ سے رجوع کرنے سے روکا ہے اور کہا ہے کہ "سچے مسلمان ٹویٹر استعمال نہیں کرتے اور اس فتوے کی خلاف ورزی بھی آل سعود کی  حکومت نے کی ہے اور اس کے 5،3 فیصد شیئرز خرید لئے ہیں تا کہ اس طرح ٹویٹر کے سعودی صارفین پر نظر رکھ سکیں!۔سعودی مفتی شیخ عبدالعزیز آل الشیخ نے کہا ہے کہ ٹویٹر بعض شہرت پسند لوگوں کے ہاتھ میں اوزار کی صورت اختیار کرگیا ہے جس کے ذریعے وہ ایک دوسرے پر بہتان تراشی کرتے ہیں اور جھوٹ و افترا باندھتے ہیں۔.....

/169

تفصیل کے لئے رجوع کیجئے:

بلاد الحرمین میں طلبہ کے احتجاجی مظاہروں ميں اضافہ