7 مارچ 2012 - 20:30

یمن، عراق، شام، بحرین، اور مصر سمیت شمالی افریقی ممالک کے انقلابات کو منحرف کرنے کے لئے فتنہ انگیزیوں اور پاکستان، افغانستان اور لبنان میں فرقہ واریت کو ہوادینے پر اربوں ڈالر خرچ کرنے والے سعودی عرب کے عوام امتیازی سلوک، بے روزگاری اور بھوک اور افلاس میں مبتلا ہیں۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق آل سعود آٹھ برسوں سے عراقی عوام کے خون سے ہولی کھیل رہا ہے اور کئی ممالک میں ہزاروں افراد کے قتل میں ملوث ہے، بحرین پر قبضہ جمائے ہوئے ہے، یمن میں مداخلت کرچکا ہے، مصر و تیونس کے انقلابات کو تباہ کرنے کے لئے اربوں خرچ کررہا ہے اور ان دنوں تو وہ جہاں الشرقیہ کے علاقے میں عوامی مظاہروں کو کچلنے میں ایک لمحہ بھی ہاتھ سے نہیں جانے دیتا اور انقلاب بحرین کو کچلنے کے لئے آل خلیفہ کے پاس دس ہزار کرائے کے جلاد بھجوا چکا ہے، شام کے دہشت گرد ٹولوں کی مہربان بن کر بظاہر اس ملک میں جمہوریت کے قیام کے لئے کوشش کررہا ہے!! اور صدر شام کو عوام کی آواز سننے کی نصیحت کررہا ہے!! نہ مرے یہ بھی دیکھ لیا۔
بحرین میں سعودی جرائم اور مظالم کی داستان دنیا بھر میں آل سعود کی بدنامی کا سبب بنی ہوئی ہے اور شیعیان اہل بیت (ع) کے ساتھ اس کا برتاؤ فلسطینیوں کے ساتھ اسرائیلیوں کے اس لئے بہت زیادہ افسوسناک ہے کہ اسرائیل میں ذرائع ابلاغ کا وجود ہے [گوکہ انہیں آزادانہ کام کرنے کی اجازت نہیں ہے] لیکن سعودی عرب میں ذرائع ابلاغ کا تعلق بھی آل سعود سے ہے چنانچہ مکمل سنسرشپ کی بنا پر وہاں مظالم کی شدت کا بیرونی دنیا کو کوئی اندازہ نہيں ہے۔

امریکی کی بیرونی تعلقات کونسل (Foreign Relations Council) کی حالیہ رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کی کل آبادی ڈھائی کروڑ ہے اور بقول اس ادارے کے، شیعہ مسلمانوں کا تناسب 15 فیصد ہے اور اس حساب سے اس ملک میں شیعہ آبادی چالیس لاکھ افراد کے لگ بھگ ہے جو کویت، قطر، بحرین اور امارات کی مقامی عرب آبادی سے کہیں زیادہ ہے۔

ادھر ہیومین رائٹس واچ نے اپنی رپورٹ میں زور دے کر کہا ہے کہ سعودی عرب کی شیعہ آبادی کو بے روزگاری کی وجہ سے سخت دشواریوں کا سامنا ہے اور آل سعود کا امیتازی سلوک یہاں تک ہے کہ کوئی مقامی شیعہ باشندہ فوجی اکیڈمیوں کے قریب جانے کا مجاز تک ہیں۔

دوسری طرف سے "بزنس ویک" نے سعودی عرب میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور پامالیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ سعودی عرب میں اقلیتوں کے ساتھ بدسلوکیوں اور امتیازہ طرز سلوک کی بنا پر کوئي شیعہ باشندہ جج نہیں بن سکتا اور سرکاری یا فوجی اداروں میں کسی اعلی عہدے پر فائز نہیں ہوسکتے۔

عربی ـ سعودی فنڈ کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب میں 2011 کا بجٹ سرپلس تقریباً 49 ارب ڈالر رہا جو اس ملک کی جی ڈی پی کا 9.1 حصہ بنتا ہے لیکن اس کے باوجود معتبر بین الاقوامی جریدے "اکانومسٹ" نے لکھا ہے کہ سعودی عرب میں بیروزگاری کی شرح بدستور 35 فیصد ہے گوکہ آل سعود کی سرکاری رپورٹ کے مطابق اس ملک میں بیروزگاری کی شرح 10.6 فیصد ہے!۔

سعودی عرب کے کم از کم 60 فیصد عوام کرائے کے مکانات میں بسیرا کئے ہوئے ہیں اور دارالحکومت کے مرکز سے 6 کلومیٹر کے فاصلے پر ایسے محلے بھی دکھائی دے رہے ہیں جو کسی قحط زدہ افریقی ملک کی تصویر پیش کررہے ہیں اور غربت اور بیروزگاری اور اس کے نتیجے میں اخلاقی بے راہروی کا حال یہ ہے کہ آل سعود نے حال ہی میں ایک شاہی فرمان جاری کرکے غربت کی میڈیا کوریج پر پابندی لگا دی ہے۔ مگر دوسری طرف سے سعودی شہزادے اربوں ڈآلر کی گاڑیاں درآمد کررہے ہیں، بیرون ملک اربوں کی املاک خرید رہے ہیں اور سعودی شہزادے دنیا کے چند ہی ارب پتیوں میں شمار ہوتے ہيں لیکن عوام۔۔۔

سعودی عرب نے سنہ 2011 میں صرف امریکہ سے 60 ارب ڈالر کے ہتھیار خرید لئے جن کی اس ملک کو ضرورت نہ تھی کیونکہ اس ملک کو بیرونی خطرات نہیں ہیں۔ سعودی عرب کئی ارب ڈالر دے کر امریکہ کے پرانے ہتھیار خرید رہا ہے جبکہ اس کی 10 فیصد رقم خرچ کرکے چین، روس اور بھارت جیسے ممالک جدیدترین ہتھیار بنا رہے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہتھیاروں کے سودے بھی سعودی شہزادوں کی بڑی بڑی کمائیوں کا ذریعہ ہے ورنہ ان کے لئے یہ بات ہرگز اہمیت نہیں رکھتی کہ ہتھیار کی کیفیت کیا ہے یا کیا سعودی فوجی ان ہتھیاروں کا استعمال جانتے بھی ہیں یا نہیں۔

امریکہ کی جارج ٹاؤن یونیوسٹی کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کی 22 فیصد آبادی غربت و افلاس کا شکار ہے اور اور جریدہ "ٹائم" کے مطابق ہر سات سعودیوں میں سے ایک "پڑھنا لکھنا نہیں جانتا یعنی ملک کی 28،14 فیصد آبادی ناخواندہ ہے۔
.......

/169

تفصیل کے لئے رجوع کیجئے:

سعودی عرب میں شیعہ باشندوں کی گرفتاریوں میں زبردست اضافہ / اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ قریبی تعاون