7 مارچ 2012 - 20:30

تیونس کے صدر نے پارلیمنٹ سے کہا ہے کہ مسلمانوں پر کفر کا فتوی لگانے والے افراد کےلئے سزا کا تعین کرے۔

ابنا: تیونس کے صدر منصف المرزوقی نے کہا ہے بعض انتھا پسند حلقوں کی جانب سے مسلمانوں پر کفر کا فتوی لگانے سے ملک کے اتحاد اور قومی یکجہتی کو نقصان پہنچتا ہے لھذا پارلیمنٹ کو چاہیے کہ جلد از جلد ایسا قانون بنائے جس کی رو سے مسلمانوں پر کفر کا فتوی لگانے والوں کو سزا دی جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ مختلف نظریات رکھنے والوں پر کفر کے فتوے لگانے سے قومی اتحاد کو نقصان پہنچتا ہے اور ملک میں کشیدگي پھیلتی ہے۔ تیونس کے صدر نے کہا کہ تکفیری حلقوں کوسزا دینے سے یقینی طور پر تیونس میں اتحاد کو استحکام ملے گا۔

ادھر لبنان کے ایک عالم اھل سنت عمر بکری نے کہا ہے کہ سعودی عرب کی حکومت کا اسلام سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے۔ شیخ عمر بکری نے جو لبنان میں اھل سنت کے بزرگ عالم دین شمار ہوتے ہیں کہا کہ آل سعود کی حکومت بظاہر خود کو اسلامی کہتی ہے لیکن مکمل طرح سے اسلام کی مخالف ہے اور اس کا اسلام سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے۔ انہوں نے حزب اللہ کی حمایت کرتےہوئے کہا کہ علاقے میں سب سے بڑی شکست امریکہ اور صہیونی ریاست کو ہوئي ہے۔ یاد رہے مبصرین کا خیال ہے کہ جب تک حجاز پر آل سعود کا قبضہ باقی ہے صہیونی ریاست بھی باقی رہے گي اور جس دن آل سعود کی حکومت ختم ہوئي صہیونی ریاست کا نام و نشان بھی نہیں رہے گا۔....... /169