26 فروری 2012 - 20:30

بحرین کی انسان حقوق سوسائٹی کے سربراہ نے تیونس میں شام دشمن قوتوں کے اجلاس میں سعودی وزیر خارجہ کے خطاب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ سعودی وزیر خارجہ شاید بھول گئے تھے کہ ان کی فوجیں بحرین کی سڑکوں پر عوام کو ٹینکوں اور بکتر بند گاڑیوں کا نشانہ بنا رہی ہیں۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق بحرین کی انسان حقوق سوسائٹی کے سربراہ "یوسف الربیع" نے العالم کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ سعودی وزير خارجہ سعود الفیصل نے تیونس میں منعقد ہونے والی بظاہر فرینڈز آف سیریا کے عنوان سے منعقدہ کانفرنس میں شام میں عوام کی آزادی اور جمہوریت کے حق میں زبردست ریمارکس دیئے اور سننے اور دیکھنے والوں کو شبہہ ہوا کہ شاید وہ بھول گئے ہیں کہ آل سعود کی فوجوں نے بحرین کے خلاف جارحیت کا ارتکاب کیا ہے اور ان کے فوجیں بحرین کی سڑکوں پر عوام کو ٹینکوں اور بکتر بند گاڑیوں کے ذریعے نشانہ بنا رہی ہیں۔

انھوں نے کہا: فرینڈز آف سیریا کے عنوان سے منعقدہ کانفرنس کے شرکاء کو بحرین کے واقعات و حقائق اور اس ملک کے عوام کی افسوسناک صورت حال کی طرف توجہ دینی چاہئے۔ بحرین میں عوام پرامن احتجاج کے ذریعے اپنے جائز حقوق کا مطالبہ کررہے ہیں لیکن آل خلیفہ اور آل سعود کی فورسز انہیں گولیوں اور زہریلی گیسوں کا نشانہ بنا رہی ہیں۔

انھوں نے کہا: تیونس میں سعودی وزیر خارجہ نے دعوی کیا کہ شام کا نظام حکومت ایک فابض نظام حکومت ہے لیکن شاید وہ بھول گئے تھے کہ ان کی حکومت نے بحرین پر قبضہ کرلیا ہے اور اپنے ٹینکوں اور گاڑیوں پر بیٹھ کر بحرینی عوام کا تعاقب کررہی ہے۔

انھوں نے کہا: بحرین میں آل سعود کی فورسز کی موجودگی کی وجہ سے اس ملک کی صورت حال پیچیدہ ہورہی ہے اور چنانچہ سعودی عرب کو فوری طور پر بحرین سے نکل جانا چاہئے۔

..............

/169

تفصیل کے لئے رجوع کیجئے: 

شام: آل سعود کے ہاتھ شامیوں کے خون میں ڈوبےہوئے ہیں؛ شام کے خلاف آل سعود کی سازش