ابنا: رضی الموسوی نے کہا کہ بحرین کے بحران کو حل کرنے کے لئے حکومت کو چاہیے کہ وہ بغیر کسی پیشگي شرط کے منامہ منشور کے مطابق مذاکرات کرے۔
انہوں نے کہا کہ آل خلیفہ نے جو پرتشدد اور فوجی راستہ اختیار کیا ہے اس سے بحران حل نہیں ہوسکتا بلکہ مزید بدامنی پھیلے گي۔ انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی گروہ بامعنی مذاکرات کرنے پر تیار ہیں اور منامہ منشور کے مطابق مذاکرات میں بحران کا جائزہ لینے کے لئے آمادہ ہیں۔
انہوں نے منامہ میں اقوام متحدہ کے نمائندہ دفتر کے سامنے عوامی احتجاج کی طرف اشارہ کرتےہوئے کہا کہ یہ عوامی احتجاج حقوق کی ادائيگي کے لئے کیا گيا تھا۔
یاد رہے بارہ اکتوبر کو بحرین کے پانچ سیاس گروہوں نے ایک مشترکہ بیان جاری کیا تھا جسے منشور منامہ کا نام دیا گيا ۔ یہ منشور سیاسی پارٹیوں کے مطالبات پر مشتمل ہے اور اس میں عوام کے حقوق کی ادائيگي پر تاکید کی گئي ہے۔........ /169