19 فروری 2012 - 20:30

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے ایک سال کی تأخیر سے بحرین میں عوام کے قتل عام کے بارے میں تحقیقات کے لئے ایک کمیٹی تشکیل دینے کا اعلان کیا ہے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق بان کی مون نے ایک سال کی تأخیر سے، بحرین میں عوام پر تشدد اور قتل و غارت پر تنقید کرتے ہوئے اس ملک میں تحقیقات کے لئے ایک مستقل کمیٹی کی تشکیل کی ہدایات جاری کردی ہیں۔

بان کی مون نے ایک بیان میں بحرین میں "حد سے زیادہ" طاقت کے استعمال اور تشدد میں اضافے کو عالمی برادری کی تشویش کا سبب قرار دیا!۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے بحرین کی حکومت سے زور دے کر مطالبہ کیا ہے کہ بین الاقوامی قوانین کا پاس رکھتے ہوئے بحرینی عوام کے خلاف تشدد بند کردیں اور عوام کو اپنے مطالبات پیش کرنے دیں اور ان کے لئے بیان کی آزادی کا ماحول فراہم کردیں۔

انھوں نے کہا: بحرین کی افواج عوام کے خلاف تشدد کی پالیسی فوری طور پر ترک کردیں اور عوام کو دوستانہ ماحول میں مطالبات پیش کرنے کا ماحول فراہم کریں۔

بان کی مون نے کہا: حکومت بحرین کے پاس واحد راستہ یہ ہے کہ عوام کے ساتھ رواداری کا سلوک روا رکھے۔ بان کی مون، جو بحرینی عوام اور دنیا کی تمام اقوام کی طرف سے عدم اعتماد کا سامنا کررہے ہیں، صرف اسی وقت فیصلہ کن اقدام کے لئے آگے بڑھتے ہیں جب یہ اقدام امریکہ یا اسرائیل کے مفاد میں ہو اور انھوں نے اس بیان میں بھی آل خلیفہ کو ایک جائز حکومت کے عنوان سے مورد خطاب قرار دیا ہے اور اس سے مطالبہ کیا ہے کہ عوام کو مطالبات پیش کرنے دیں لیکن نام نہاد اقوام متحدہ کے نام نہاد سیکریٹری جنرل نے آل خلیفہ کے بادشاہ سے نہ تو خون کا حساب مانگا ہے، نہ ان سے عوامی مطالبات ماننے کے لئے کہا ہے اور نہ ہی بحرین پر آل سعود کی جارحیت کی طرف کوئی اشارہ کیا ہے!۔
ادھر بحرین کے سیاسی راہنماؤں نے بار بار کہا ہے کہ وہ اپنا انقلاب آگے بڑھاتے رہیں گے اور انہیں اس حوالے سے بان کی مون، اقوام متحدہ اور دوسری عالمی تنظیموں سے کوئی توقع نہیں ہیں کیونکہ یہ ساری تنظيمیں امریکہ کی کٹھ پتلی ہیں اور ان کی ذمہ داری امریکہ اور اسرائیل کے مفادات کا تحفظ کرنا ہے۔
.......

/169-110

تفصیل کے لئے روجوع کیجئے:

بحرین کا انقلاب کرامت 370ویں اور 371ویں دن کے واقعات/ سترواں شہید؛ بحرینی عوام میدان شہداء میں/ اپڈیٹس