14 فروری 2012 - 20:30

سعودي عرب کے مشرقي علاقوں ميں آل سعود کے خلاف عوامي مظاہروں ميں وسعت آگئي ہے-

ابنا: منگل کي شام القطيف ، العواميہ اور الدبابيہ نامي علاقوں ميں شہيد منير الميداني اور شہيد زہير آل سعيد کي تشيع جنازہ ميں ايک لاکھ سے زائد لوگوں نے شرکت کي-

يہ دونوں نوجوان جمعرات اور جمعے کو مظاہرين پر سعودي فوجيوں کي براہ راست فائرنگ ميں شہيد ہوگئے تھے - 

 سعودي حکومت نے شہيد منير الميداني کے جنازے ميں عوام کي شرکت اور حکومت سے عوام کے اظہار نفرت کے بعد شہيد زہير آل سعيد کا جنازہ دينے سے انکار کرديا تھا ليکن عوام نے اعلان کرديا تھا کہ جب تک زہير آل سعيد کا جنازہ تدفين کے لئے ان کے حوالے نہ کرديا جائے وہ سڑکوں پر موجود رہيں گے -

رپورٹ کے مطابق مشرقي علاقوں ميں سڑکوں پر لوگوں کا ازدحام بڑھتے ديکھ کے سعودي حکام زہير آل سعيد کا جنازہ دينے پر بھي مجبور ہوگئے –

جنازہ ملنے کے بعد القطيف اور اس کے مضافاتي علاقوں ميں دونوں شہيدوں کي تشيع جنازہ کي گئي جس ميں ايک لاکھ سے زائد لوگوں نے شرکت کي –

دونوں شہيدوں کے جنازے کے جلوس ميں عوام نے  آل سعود کے خلاف نعرے لگائے اور اپنے برحق مطالبات کي تکميل تک تحريک جاري رکھنے کا اعلان کيا-

قابل ذکر ہے کہ سعودي عرب کے مشرقي علاقوں ميں ايک مہينے کے اندر مظاہرين پر سعودي سيکورٹي اہلکاروں کي فائرنگ ميں کم سے کم آٹھ افراد شہيد ہوچکے ہيں....... /169