ابنا: عالمی ذرائع ابلاغ نے بھی اسلامی انقلاب کی کامیابی کی تینتسویں سالگرہ کے اس تاریخی دن کے موقع پر نکالے جانے والے جلوسوں میں ملت ایران کی بھر پور شرکت اور یورپ کی ایران مخالف پابندیوں ، دھکیوں اور علاقائی اور عالمی حالات کے بارے میں صدر مملکت ڈاکٹر محمود احمدی نژاد کی تقریر کو کوریج دی۔
ان ذرائع ابلاغ نے اس بات کا اعتراف کرتے ہوۓ کہ ملت ایران دباؤ اور دھمکیوں کے مقابلے میں ڈٹی ہوئي ہے بائيس بھمن کے عظیم مظاہروں میں ملت ایران کی بھرپور شرکت کو ایران مخالف پابندیوں کا جواب قرار دیا۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر محمود احمدی نژاد نے کل اپنی تقریر میں یہ بات زور دے کر کہی کہ ملت ایران یورپی ممالک کی پابندیوں اور امریکہ و اسرائیل کی دھمکیوں کے سامنے ہر گز سر تسلیم خم نہیں ہو گی۔
برطانیہ کے بی بی سی اور جرمنی کے ڈوئچے ویلے چینلوں اور یورپ کے دوسرے ذرائع ابلاغ نے صدر مملکت کی تقریر کے اس اقتباس کو نشر کرنے کے ساتھ ساتھ اس بات کا اعتراف کیا کہ ڈاکٹر محمود احمدی نژاد کی تقریر کا دسیوں لاکھ مظاہرین نے خیر مقدم کیا۔
بائيس بھمن کے مظاہروں میں ملت ایران کی منظم انداز میں شرکت صرف اسلامی انقلاب کی سالگرہ کی تقریب میں شرکت ہی شمار نہیں ہوتی ہے کیونکہ آج ایران اقوام کی بیداری کے ایک نمونۂ عمل میں تبدیل ہوچکا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ صدر مملکت نے اپنی تقریر میں گزشتہ تینیتس برسوں کے دوران اسلامی جمہوریہ ایران کے نظام کی بنیادوں کے استحکام اور ایران میں سائنسی اور اقتصادی میدانوں ہونے والی ترقی و پیشرفت کے بارے میں جو کچھ کہا ہے اس میں چند عالمی پپغامات پاۓ جاتے ہیں۔
اول یہ کہ ملت ایران کے مقاصد میں خلل پیدا نہیں کیا جاسکتا ہے۔ ملت ایران کا دوسرا پیغام خود مختاری اور عدل پسندی پر تاکید ہے۔ اور ترقی و پیشرفت بھی اسی کا ایک حصہ ہے۔ اور تیسرا پیغام یہ ہے کہ ملت ایران تسلط کے خلاف ہے اور وہ عالمی طاقتوں کی توسیع پسندی اور منہ زوری کے سامنے گھٹنے نہیں ٹیکے گي۔
حقیقت وہی ہے جس کی جانب صدر مملکت ڈاکٹر محمود احمدی نژاد نے بھی بائيس بھمن کے جلوس میں اپنی تقریر میں اشارہ کیا اور کہا کہ منہ زور طاقتیں ملت ایران کی ترقی و پیشرفت کی مخالف ہیں اور ایٹمی معاملہ دوسرے موضوعات کے لۓ صرف ایک بہانہ ہے کیونکہ ایران ہمیشہ عدل و احترام کی بنیاد پر مذاکرات کے لۓ آمادہ رہا ہے جبکہ دوسرے فریق ایران کے خلاف قراردادیں منظور کرنے ، پابندیاں لگانے اور اسے دھمکیاں دینے میں مصروف رہتے ہیں۔ اور ظاہر ہےکہ اس طرح کے اقدامات کے سلسلے میں ایران کا جواب روشن ہے ۔ اور ایران مناسب وقت میں ان دھمکیوں کا جواب خود ان کی زبان میں ہی دے گا اور وہ جارحین کو دندان شکن جواب دینے کے سلسلے میں ذرّہ برابر بھی تامل سے کام نہیں لے گا۔ ........
/169