ابنا: اخبار کے مطابق طالبان سے امن بات چيت واشنگٹن کي کاميابي نہيں بلکہ انتظامي ناکامي ہے،طالبان نے جنگي طوالت اور اسٹريٹجک ڈيڈلاک قائم رکھنے ميں کاميابي حاصل کي . طالبان قطر ميں دفتر کھول کر مرکزي دھارے کي سياست ميں داخل ہونے کا جواز حاصل کرچکے ،طالبان اپني بقا کي ضمانت لے چکے ا ب وہ بالادستي کيلئے جنگ کريں گے، افغانيوں کا کوئي بھي اتحاد اب واشنگٹن کو طالبان سے بات کرنے سے نہيں روک سکتا۔
امريکي اخبار’وال اسٹريٹ جرنل‘ کي رپورٹ کے مطابق کسي جواز يا معزرت خواہانہ انداز سے قطع نظر، طالبان سے امن بات چيت واشنگٹن کے لئے کاميابي کي علامت نہيں بلکہ انتظامي ناکامي ہے.دس برس جنگ کے بعد طالبان سے مذاکرات کا مطلب دہشت گردوں اور انتہا پسندوں کو قبول کرنا اور جواز فراہم کرنے کے مترادف ہے. نائن اليون حملے کے بعد نيٹو کا افغانستان ميں مداخلت کا مقصد القاعدہ اور طالبان کے گٹھ جوڑ کو شکست دے کر شدت پسندي اور انتہا پسندي کو ختم کرنا تھا ليکن اب يہ امريکہ کے لئے خواب ہي دکھائي ديتا ہے.
بعض ذرائع کے مطابق امریکہ ، القاعدہ اور طالبان ایک ہی سکہ کے دو رخ ہیں امریکہ دہشت گرد اور شدت پسند تنظیموں کے ذریعہ اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کرنے کی کوشش کررہا ہے تاکہ یورپ اور امریکہ میں اسلام کے فروغ کو روک سکے۔.......
/169