ابنا: يورو نيوز کے مطابق سرد لہر ميں جس نے تقريبا دس دن سے يورپ کو اپني لپيٹ ميں لے رکھا ہے اب تک پانچ سو سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہيں - اس رپورٹ کے مطابق صربيا ميں درجہ حرارت ميں مزيد گراوٹ کي پيشين گوئي کي گئي جس کے بعد حکام نے عوام سے بجلي کے استعمال ميں کفايت سے کام لينے کي اپيل کي ہے.
يورپ ميں موجودہ سرد لہر ميں سب سے زيادہ لوگ يوکرين ميں ہلاک ہوئے ہيں جہاں مرنے والوں کي تعداد سرکاري طور پر ايک سو چھتيس بتائي گئي ہے ليکن غير سرکاري رپورٹوں ميں سرد لہر سے مرنے والوں کي تعداد اس سے زيادہ بتائي گئي ہے.
يورو نيوز کے مطابق يوکرين کے بعد سرد لہر سے سب سے زيادہ ہلاکتيں پولينڈ ميں ہوئي ہيں.
اس رپورٹ کے مطابق پولينڈ ميں سردي لگنے سے چوہتر افراد ہلاک ہوئے ہيں.
رپورٹ کے مطابق پولينڈ ميں اسي کے ساتھ پچاس سے زائد افراد گھر گرم کرنے کے غير معياري وسائل کے استعمال کے نتيجے ميں مونو آکسائيڈ گيس پھيلنے اور دم گھٹنے سے ہلاک ہوئے ہيں-
.......
/169