4 فروری 2012 - 20:30

امريکي ڈرونز جنگ نہ صرف پاکستان کي عوام پر برے نفسياتي اثرات مرتب کر رہي ہے بلکہ امريکي ڈرونز پائلٹ بھي اس کے منفي اثرات سے محفوظ نہيں، ڈرونز جنگ ان ميں ذہني دباو اورجذباتي انتشار کا باعث بن رہي ہے.

ابنا: ڈرونز پائلٹوں کي کمي اور فوج کي طرف سے ان کے استعمال ميں مسلسل اضافے کا تقاضا ڈرونز پائلٹس اور سينسرزآپر يٹرز کو کئي گھنٹے مسلسل کام پر مجبور کر رہا ہے .امريکي ڈرونز پائلٹ نفسياتي طور ميں” بقا کے الجھاو‘existential conflict کا شکار ہو چکے ہيں. امريکي اخبار’بوسٹن گلوب‘ کي رپورٹ کے مطابق پاکستان کے قبائلي علاقوں ميں ڈرونز کے ذريعے ہل فائر ميزائلوں کے حملوں کا بچوں اور بڑوں کي نفسياتي مسائل اوراثرات پر بہت کچھ لکھا گيا ليکن افغانستان اور پاکستان کي فضاوں ميں بغير پائلٹ ہتھيار وں پر نظر رکھنے والے امريکي ڈرون پائلٹوں کي نفسيات پر ريموٹ کنٹرول جنگ کے اثرات پر بہت کم لکھا گيا.

امريکي ائير فورس کے ايک ہزار سے زائد پائلٹ ان ريموٹ کنٹرول ڈرونز کو چلانے ميں ہمہ وقت مصروف ہوتے ہيں.گزشتہ سال ايئر فورس نے ان ڈرون پر کام کرنے والے عملے کي ذہني اور جذباتي تبديليوں کا ايک مطالعہ کيا. سينئر ايئر فورس کے ماہر نفسيات کے مطابق افغانستان ميں زميني فوج کي معاونت فراہم کرنے والے ان ڈرونز پائلٹس اور سينسرزآپر يٹرز کے رويوں کا چھ ماہ تکمطالعہ کيا گيا ان کي شخصيت اور تناو کي مختلف تبديلياں نوٹ کي گئيں. ان ميں پاکستان، يمن اور صوماليہ  ميں سي آئي اے کے خفيہ ڈرون پروگراموں پر کام کرنے والے پائلٹوں کوشامل نہيں کيا گيا.46في صد ڈرونز پائلٹوں ميں ذہني دباوکي سطح انتہائي بلند ديکھي گئي،29في صد ميں جذباتي ہيجان اور تھکاوٹ پائي گئي. اس کي زيادہ تر وجہ کئي گھنٹوں تک کام اور مسلسل شفٹوں ميں کام کرنا بتائي گئي.

ڈرونز پائلٹ کي کمي اور فوج کي طرف سے ان کے استعمال ميں مسلسل اضافہ ان پائلٹوں ميں ذہني دباو? کي وجہ بن رہے ہيں. فوجي ماہر نفسيات اس حالت کو existential conflict. کو نام ديتے ہيں.يہ نئي جنگي تکنيک ذہني انتشار کا شکار بن رہي ہيں. .....

/169