30 جنوری 2012 - 20:30

ایران کے تیل کے بائیکاٹ کا مسئلہ کہ جو یورپی یونین کے عجلت میں کیے گئے فیصلے کے بعد پیش آیا، اس وقت یورپ میں تیل کے صارفین کے لیے ایک بڑی مشکل میں تبدیل ہو گیا ہے۔ خصوصا اس لیے کہ ایران نے اعلان کیا ہے کہ وہ ابھی سے یورپی ممالک کو تیل کی فروخت روکنے کے لیے تیار ہے۔

ابنا: امریکہ نے اکتیس دسمبر دو ہزار گیارہ کو ایران کے خلاف نئی غیرقانونی پابندیاں عائد کیں اور یورپی یونین کے رکن ممالک کے وزرائے خارجہ نے بھی برسلز میں اپنے حالیہ اجلاس میں جولائی کے مہینے سے ایران کے تیل کے بائیکاٹ سمیت نئی اقتصادی اور تجارتی پابندیوں کی منظوری دی۔ان فیصلوں کے بعد ایران کے تیل کے بڑے خریداروں خاص پر مشرقی خریداروں پر دباؤ ڈالنے کے لیے امریکہ نے کوششیں شروع کر دیں۔

اس کے باوجود ایران کے برآمدی تیل کی کیفیت اور اسی طرح اس تک آسان رسائی اور مالی لحاظ سے دیگر خصوصیات مغربی ممالک کے عجلت پسندانہ فیصلے پر عمل درآمد کی راہ میں بدستور رکاوٹ ہیں۔

چینی وزارت خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ یورپی یونین کا ایران کے تیل کی خریداری کے بائیکاٹ کا فیصلہ تعمیری طرزعمل نہیں ہے۔چین ایرانی تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے اور دونوں ملکوں کے درمیان لین دین کی شرح بیجنگ میں ایرانی سفیر کے بقول پینتالیس ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی ہے۔

ہندوستان کے وزیر خزانہ نے بھی اپنے دورۂ شیکاگو کے دوران اس بات پر زور دیا ہے کہ ان کا ملک ایران کے تیل کے بائیکاٹ کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا ہے۔ پرنب مکھرجی نے کہا کہ ہندوستان تیل درآمد کرنے والا دنیا کا چوتھا بڑا ملک ہے اور وہ ایران سے تیل کی درآمد جاری رکھے گا۔

ہندوستان اپنی ضروریات کا بارہ فیصد تیل ایران سے خریدتا ہے۔ ایران سعودی عرب کے بعد ہندوستان کو تیل بیچنے والا دوسرا بڑا ملک ہے۔ امریکہ اور یورپی یونین نے ایران کے ایٹمی پروگرام کے بہانے لیکن مغرب کی تسلط پسندی کے مقابل ایرانی عوام اور حکام کی مزاحمت کو توڑنے اور ختم کرنے کے لیے دھمکانے اور پابندیوں کی پالیسی اپنا لی ہے۔

ایسا لگتا ہے کہ مغربی ممالک اپنی منصوبہ بندی میں سرگردانی کا شکار ہو گئے ہیں وہ یورپ کے اقتصادی حالات اور علاقے میں ایران کی پوزیشن خاص طور پر توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کو مدنظر رکھے بغیر ایسے فیصلے کر رہے ہیں کہ جنہوں نے ملت ایران پر دباؤ ڈالنے سے زیادہ پابندیاں لگانے والوں کو مشکل میں ڈال دیا ہے۔

ایسے حالات میں کہ ایران کے وزیر تیل نے اعلان کیا ہے کہ ایران یورپی ممالک کو تیل کی فروخت بند کرنے کے لیے تیار ہے، جرمنی نے ایران سے صبروتحمل سے کام لینے کی اپیل کی ہے۔

اس بات کو پیش نظر رکھتے ہوئے کہ یورپ کے لیے ایران کے تیل کی برآمدات اٹھارہ فیصد ہیں اور یہ ایران کے تیل کی برآمدات پر زیادہ اثرانداز نہیں ہوں گی، ایران کے تیل کے بائیکاٹ سے یورپی ممالک خاص طور پر ان کے نجی شعبے کی آئل ریفائنریوں کو نقصان ہو گا۔

خصوصا اس لیے کہ ایران کی وزارت پٹرولیم کے حکام نے اعلان کیا ہے کہ ایران کا خام تیل اعلی کوالٹی کا ہونے کی بنا پر اس کی فروخت میں کوئی خاص مشکل پیش نہیں آئے گی اور ایران کے تیل کے بہت سے خریدار موجود ہیں۔........ /169