ابنا: اس رپور ٹ میں جو پچیس جنوری کو شائع ہوئی ہے آیا ہے کہ ایٹمی سرگرمیوں کی بنا پر مغرب کی جانب سے ایران پر دباؤ میں اضافہ دنیا کے موجودہ بحرانی اقتصاد کے لئے بہت بڑا خطرہ ہے۔عالمی مالیاتی فنڈ نے اپنی رپورٹ میں تاکید کی ہے کہ ایران کے خام تیل پر وسیع پیمانے پر پابندی سے روزانہ تقریبا پندرہ لاکھ بیرل خام تیل عالمی بازار سے کم ہوجائےگا جبکہ اس وقت تیل پیدا کرنے والا کوئی بھی ایسا ملک نہیں ہے جو اس کمی کو پورا کر سکے۔ یورپی یونین کے وزرائے خارجہ نے تیئیس جنوری کو برسلز میں منعقد ہو نے والے اجلاس میں ایران کے خلاف پابندیوں کی منظوری دی۔
ان پابندیوں کا تعلق ایران کے تیل کی خرید و فروخت سے ہے البتہ مغربی اقتصاد پر پڑنے والے اس پابندی کے عالمی اثرات پر تشویش کی بنا پر یورپی یونین نے کہا ہے کہ ایرانی تیل پر پابندی کے فیصلے پر جولائی تک عمل نہیں کیا جائےگا۔ ایران کے خام تیل میں یورپی ممالک کا تقریبا اٹھارہ فی صدی حصہ ہے
ایرانی تیل پر عائد پابندی کے اثرات و نتائج پر تشویش ایک ایسا موضوع ہے جس کا دائرہ سوئٹزرلینڈ میں عالمی اقتصادی فورم کے اجلاس تک پھیل گیا ہے۔ فرانس کی ٹوٹل تیل کمپنی کے مینیجنگ ڈائریکٹرکرسٹوفر دو مارجوری نے داووس اجلاس کے پہلے دن ایران کے خلاف یورپ کی نئی پابندی کو بے اثر قرار دیتے ہوئے کہا :کہ یہ صحیح ہے کہ ہم نے ایران سے تیل خریدنے کا سلسلہ بند کر دیا ہے لیکن اس ملک کے تیل کے بہت سے خریدار پیدا ہوجائیں گےانہوں نے مزید کہا کہ شاید ایران شاید ایسے حالات بنا لے کہ اسے نئے اور بہتر خریدار مل جائيں۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے ایران کے پرامن ایٹمی پروگرام کے مخالفین کو خبردار کیا ہے کہ ایران کے ایٹمی مسئلے کے پرامن حل کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے ۔بان کی مون نے مزید کہا کہ ایران کے خلاف سخت لہجہ اپنانا اور اسے دھمکی دینا صحیح نہیں ہے۔
مغربی ممالک برسوں سے یہ کوشش کر رہے ہیں کہ غیرحقیقی رپورٹیں شائع کرنے اور بےبنیاد الزامات لگانے کے مقصد سے ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی پر دباؤ، دھمکی اور بائیکاٹ کی پالیسی کے ذریعے ایران کو پرامن ایٹمی سرگرمیوں اور اپنے ایٹمی ری ایکٹروں کے لیے ایندھن کی تیاری کے سلسلے میں یورینیم کی افزودگی سے روک دیں۔
ایران پر اس غیر منطقی مطالبے کو مسلط کرنے پر اصرار دراصل ایٹمی توانائی کے مسئلے میں دوسرے ملکوں کے حقوق کی پامالی اور ایٹمی ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے(این پی ٹی) کی مخالفت ہے۔ جبکہ وہ ممالک کہ جو ایران کے خلاف ہنگامہ کھڑا کرتے ہیں، قراردادیں پاس کراتے اوراس پر پابندیاں عائد کرتے ہیں وہ خود ہی این پی ٹی معاہدے کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔
ان ممالک نے تقریبا ستائیس ہزار ایٹم بم تیار اور ذخیرہ کرکے برسوں سے دنیا کے امن و امان کو خطرے میں ڈال رکھا ہے اور ایٹمی ترک اسلحہ کے معاہدے پر عمل درآمد کر نے پر آمادہ نہیں ہیں۔
ان ہی میں سے بعض ممالک کی مدد سے اسرائیل کی غاصب اور جارح حکومت نے ایٹمی ہتھیار حاصل کیے اور اس نے مشرق وسطی میں ایٹم بم رکھنے والے واحد ملک کی حیثیت سے علاقے اور دنیا کی سلامتی کو خطرے میں ڈال رکھا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ایٹمی طاقتوں کے ان دہرے معیارات اور دھمکیوں کے مقابل کوئی اقدام انجام نہیں دیا جاتا ہے۔
جبکہ یہی ممالک ایران کو کہ جس نے این پی ٹی معاہدے پر دستخط کر رکھے ہیں اور وہ ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کا بھی ایک سرگرم رکن ہے اور جس کی تمام ایٹمی سرگرمیاں اس ایجنسی کے معائنہ کاروں کی نگرانی میں انجام پا رہی ہیں، بےبنیاد الزامات لگا کر اور پروپیگنڈا کر کے پرامن ایٹمی سرگرمیوں اور ایٹمی ایندھن کی تیاری کے لیے یورینیم کی افزودگی سے روک رہے ہیں۔........
/169