ابنا: پاکستان کی سینیٹ نے قبائيلی علاقوں پر امریکہ کے ڈرون حملوں کے دوبارہ شروع ہونے پر تشویش کا اظہار کرتےہوئے کہا ہے کہ ان طیاروں کونشانہ بنایا جائے۔ پاکستان کے سنیٹروں نے کہا ہے کہ خود پاکستانی سرزمین کو پاکستانی عوام کے خلاف استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ جماعت اسلامی کے سینئر رہنما پروفیسر خورشید احمد نے قبائلی علاقوں پر امریکہ کے ڈرون حملوں کے دوبارہ شروع ہونے پر اسلام آباد کی خاموشی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ آخر کیا وجہ ہے کہ فوج کے کمانڈر امریکی جاسوس طیاروں کو نشانہ بنانے کے پارلیمانی اراکین کے مطالبے کو پورا نہیں کرسکتے؟ ادھر جماعت اسلامی کے ایک اور رہنما سینیٹر محمد ابراہیم نے حکومت سے کہا ہے کہ وہ پاکستانی سرزمین سے نیٹو کی گاڑیوں کی رفت و آمد پر پوری طرح سے پابندی لگانے کی ضمانت دے۔
قابل ذکر ہے سینیٹ نے اجلاس کا بائيکاٹ کرکے امریکی ڈرون حملوں کے دوبارہ شروع ہونے پر احتجاج کیا ہے۔ قابل ذکر ہے پاکستان کے قبائلی علاقوں پر امریکہ کے ڈرون حملے ایسے عالم میں دوبارہ شروع ہوچکے ہیں کہ پاکستانی حکومت اور فوج کے درمیاں کشیدگي میں کافی اضافہ ہوا ہے اور ان حملوں کا دوبارہ شروع ہونا پاکستان کی حکومت پر دباؤ میں اضافہ ہونے کی علامت ہے۔ یاد رہے گذشتہ برس چھبیس نومبر کو پاکستانی فوجی چوکیوں پر نیٹو کےحملوں کے بعد جن میں چوبیس پاکستانی فوجی ہلاک ہوئےتھے امریکہ کے ڈرون حملے بند ہوگئے تھے ۔........ /169