24 جنوری 2012 - 20:30

اقوام متحدہ میں صہیونی ریاست کے نمائندے ران پروسور نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں دعوی کیا ہے کہ ایران کی فردو ایٹمی تنصیبات میں یورینیم کی افزودگی کا کام پرامن ایٹمی سرگرمیوں سے انحراف ہے۔

ابنا: یہ ہرزہ سرائی ایک ایسے وقت میں کی گئي ہے کہ جب ایران کی تمام ایٹمی سرگرمیان ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کے معائنہ کاروں کی نگرانی میں انجام پا رہی ہیں اور تہران آئی اے ای اے کے ساتھ بھرپور تعاون کر رہا ہے اور اب تک آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل کی مختلف رپورٹوں میں ایران کی ایٹمی سرگرمیوں میں کسی بھی قسم کے انحراف کا مشاہدہ نہیں کیا گيا ہے۔

اقوام متحدہ میں صہیونی ریاست کے نمائندے نے ایک ایسے وقت میں فردو میں ایران کی ایٹمی سرگرمیوں کے بارے میں ہرزہ سرائی کی ہے کہ جب اسرائیل نے ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کی پالیسی کو جاری رکھ کر عالمی امن و استحکام کو سنگین خطرے سے دوچار کر رکھا ہے۔ترکی کے تحقیقات اور اسٹریٹجک مرکز نے حال ہی میں صہیونی ریاست کی ایٹمی سرگرمیوں کے بارے میں ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ اس حکومت نے ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کے لیے بہت زیادہ کارخانے اور ایٹمی تنصیبات قائم کی ہیں۔

صہیونی ریاست انیس سو ساٹھ سے اب تک اپنا ایٹمی پروگرام جاری رکھے ہوئے ہے اور ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی سمیت کسی بھی بین الاقوامی ادارے کی اسرائیل کی ایٹمی سرگرمیوں پر کوئی نگرانی نہیں ہے۔

ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی نے انیس سو اکاسی میں اسرائیل کی حکومت سے درخواست کی تھی کہ وہ اپنی ایٹمی تنصیبات کو آئی اے ای اے کے معائنہ کاروں کے لیے کھول دے لیکن صہیونی ریاست نے یہ درخواست مسترد کر دی۔

اسرائیل نے اسی طرح ایٹمی ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے این پی ٹی اور حیاتیاتی ہتھیاروں پر پابندی کے بین الاقوامی معاہدے پر بھی دستخط نہیں کیے ہیں۔ صہیونی ریاست دو ہزار چھ میں مشرق وسطی کے ایٹمی ہتھیاروں کے سکیورٹی کنٹرول کے دائرے سے بھی نکل گئی۔

ترکی کے تحقیقات اور اسٹریٹجک مرکز کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی حکومت کی فوجی ایٹمی تنصیبات کا ایک اہم مرکز ڈیمونا ہے کہ جو پلوٹونیم تیار کرتا ہے اور یہاں سالانہ پندرہ سے بیس کلوگرام پلوٹونیم تیار ہوتا ہے جو چار سے چھ ایٹم بموں کی تیاری کے لیے کافی ہے۔

لیکن اس کے مقابلے میں اسلامی جمہوریہ ایران کی فوجی اور دفاعی ڈاکٹرین میں ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کی کوئي جگہ نہیں ہے اور رہبر انقلاب اسلامی نے بھی ایٹم بم کے استعمال کو حرام قرار دیا ہے۔

حضرت آیۃ اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے اپریل دو ہزار دس میں تہران میں منعقدہ بین الاقوامی ترک اسلحہ کانفرنس کے نام اپنے پیغام میں اس بات پر زور دیا کہ ملت ایران کہ جو خود کیماوی ہتھیاروں کا شکار ہوئی ہے، دوسری قوموں سے زیادہ اس قسم کے ہتھیاروں کی تیاری اور انہیں ذخیرہ کرنے کے خطروں کو محسوس کرتی ہے اور ان کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنے وسائل بروئے کار لانے کے لیے تیار ہے اور ایران عام تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے استعمال کو حرام سمجھتا ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی کا یہ پیغام اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کی سرکاری دستاویز حیثیت سے درج کیا گيا ہے۔اسلامی جمہوریہ ایران نے این پی ٹی کا ایک رکن ہونے کی حیثیت سے مختلف علاقائي اور بین الاقوامی اجلاسوں میں ہمیشہ اس بات پر زور دیا ہے کہ ایک غیرانسانی ہتھیار کی حیثیت سے ایٹمی

ہتھیاروں کی ایران کی دفاعی اسٹریٹجی میں کوئي جگہ نہیں ہے۔صہیونی ریاست کہ جسے بنیادی مشکلات اور چیلنجوں کا سامنا ہے، ان مشکلات اور چیلنجوں سے بھاگنے اور مشرق وسطی میں ایٹمی ہتھیار رکھنے والے واحد ملک کی حیثیت سے اپنے ایٹمی ہتھیاروں کے ذخیرے سے پیدا ہونے والے خطرات پر پردہ ڈالنے کے لیے دوسروں پر الزامات لگا رہی ہے اور ایران کی ایٹمی سرگرمیوں کے بارے میں صہیونی ریاست کی ہرزہ سرائی کا اسی تناظر میں جائزہ لیا جا سکتا ہے۔ ......

/169