ابنا: طارق اسد ايڈووکيٹ نے اڈيالہ جيل راول پنڈي کے گيارہ سابقہ قيديوں ميں سے چار کي پراسرار ہلاکت کے خلاف سپريم کورٹ ميں درخواست دائر کي ،چيف جسٹس افتخار چودھري کي سربراہي ميں تين رکني بنچ نے آج اسکي ابتدائي سماعت کي ، درخواست گزار وکيل نے مرنے والے قيديوں کي موبائل فونز سے لي گئي تصاوير عدالت کو دکھائيں اور کہاکہ اسپتال والوں نے ان کي موت پر موقف اپنانے سے متعلق ايجنسيوں کا مطالبہ ماننے سے انکار کرديا تھا، جسٹس خلجي عارف نے ريمارکس ديئے کہ ان قيديوں کي موت غير طبعي تھي،جسٹس طارق پرويز نے کہاکہ خبر پڑھي کہ ايک قيدي کي لاش تو کھيتوں سے ملي تھي، چيف جسٹس نے اٹارني جنرل کو مخاطب ہوتے ہوئے کہاکہ يہ بہت سنجيدہ معاملہ ہے، گيارہ لوگ اڈيالہ جيل سے ايجنسي والے آرمي ايکٹ کے تحت لے گئے اور درخواست گزار کے مطابق 4 لوگ مارے بھي جاچکے ہيں، بعد ميں عدالت نے فريقين کو نوٹس جاري کرتے ہوئے سماعت تيس جنوري تک ملتوي کردي. ........
/169