23 جنوری 2012 - 20:30

صہیونی فوجیوں کے ہاتھوں فلسطینی حکام کی گرفتاریوں میں شدت کے بعد فلسطین کی اسلامی مزاحمتی تحریک حماس نے فلسطینی گروہوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ صہیونی ریاست کی اغواء کی پالیسی کا مقابلہ کریں۔

ابنا: حماس تحریک نے پیر کی رات کو صہیونی فوجیوں کے ہاتھوں فلسطینی حکام کی گرفتاریوں اور ان کے اغواء کۓ جانے کے خلاف اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوۓ ایک بیان جاری کیا ہے جس میں فلسطینی حکام ، عوام اور جماعتوں سے مطالبہ کیا گيا ہے کہ وہ صہیونی ریاست کی اس نسل پرستانہ پالیسی کے مقابلے کے لۓ مناسب موقف اختیار کریں۔

صہیونی فوجیوں نے جمعرات کے دن فلسطینی پارلیمنٹ کے اسپیکر عزیز الدویک کی گرفتاری کے بعد کل مغربی کنارے میں واقع رام اللہ شہر پر حملہ کر کے فلسطینی پارلیمنٹ کے دو اراکین محمد طوطح اور عبدالجابر فقہا اور سابق فلسطینی وزیر خالد ابوعرفہ کو امن کے لۓ کام کرنے والے متعدد افراد سمیت گرفتار کرنے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کردیا ہے۔

حماس کے بیان میں اسلامی اور عرب ممالک کی پارلیمانوں ، اسلامی تعاون تنظیم ، انسانی حقوق کے اداروں سے بھی صہیونی ریاست کے مظالم کے مقابلے اور فلسطینی اداروں اور شخصیات کے دفاع کا مطالبہ کیا گيا ہے۔خود مختار فلسطینی انتظامیہ کے سنیئر مذاکرات کار صائب عریقات نے صہیونی فوجیوں کے ہاتھوں فلسطینی شہریوں اور حکام کی گرفتاریوں کے نۓ مرحلے کی مذمت کرتے ہوۓ صہیونی حکام سے پچیس ارکین پارلیمنٹ کی آزادی کا مطالبہ کیا ہے۔ صائب عریقات نے فلسطینی حکام خصوصا عزیز الدویک کی گرفتاری کا مقصد حماس اور فتح کے درمیان اختلافات پیدا کرنا بتایا ہے۔ اور اس بات پر تاکید کی ہے کہ فلسطینی گروہوں صہیونی ریاست کے دھوکے میں نہیں آئيں گے۔

دوسری جانب فلسطین کی قانون ساز مجلس کے اراکین نے مغربی کنارے میں رام اللہ شہر میں واقع پارلیمنٹ کی عمارت اور غزہ پٹی میں عالمی ریڈ کراس کی عمارت کے سامنے دھرنا دیا اور صہیونی ریاست کے مقابلے میں استقامت کو جاری رکھنے اور قومی آشتی پر تاکید کرتے ہوۓ انسانی حقوق کی تنظیموں اور بین الاقوامی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فلسطینی پارلیمنٹ کے اسپیکر عزیز الدویک اور دوسرے اراکین پارلیمنٹ کی آزادی کے لۓ اپنا کردار ادا کریں۔

دھرنا دینے والے فلسطینی اراکین پارلیمنٹ نے فلسطینی پارلیمان کے ستائیس اراکین کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوۓ صہیونی ریاست کو ان افراد کی جانوں کی سلامتی کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔ اس بیان میں آیا ہےکہ صہیونی ریاست فلسطینی اراکین پارلیمنٹ کو گرفتار کر کے فلسطین کی قومی آشتی کے عمل اثر انداز ہونے اور فلسطینی گروہوں کے اتحاد کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کے درپے ہے۔

واضح رہے کہ فلسطینی گروہوں خصوصا حماس اور فتح نے قاہرہ میں مصر کی ثالثی کے ساتھ گزشتہ مہینے پی ایل او کی تشکیل نو ، پارلیمانی انتخابات کے انعقاد اور مغربی کنارے میں قید فلسطینیوں کی آزادی سے اتفاق کیا تھا اور فلسطینیوں کا یہ اقدام صہیونی ریاست کو ایک آنکھ نہ بھایا تھا۔
........

/169