18 جنوری 2012 - 20:30

اسلام آباد… سپريم کورٹ نے بوگس ووٹر لسٹوں پر ضمني انتخابات روکنے کا حکم دے ديا ہے تاہم قائمہ کميٹي برائے قانون کي استدعا پر پہلے سے کامياب اميدواروں کي معطلي روکنے کے احکامات جاري کر ديئے.

ابنا:  اپنے فيصلے ميں سپريم کورٹ نے کہا ہے کہ ضمني انتخابات صرف تصديق شدہ لسٹوں پر کرائے جائيں. عدالت ميں ووٹرز لسٹوں سے متعلق کيس کي سماعت کے دوران چيف جسٹس نے اپنے ريمارکس ديئے کہ بات سپريم کورٹ پر آرہي ہے، اب حکم جاري کرنا پڑ رہا ہے. انہوں نے مزيد ريمارکس ديئے کہ ضمني انتخابات کو پراني بوگس لسٹوں پر کرانے کي اجازت نہيں دے سکتے، جولسٹيں بوگس ہيں ان پر انتخابات کو شفاف قرار نہيں ديا جاسکتا.

واضح رہے کہ ضمني انتخابات ميں کامياب اميدواروں کي تعداد23بنتي ہے. اس سے قبل جب چيف جسٹس افتخارچودھري کي سربراہي ميں چار رکني بنچ نے بوگس اندراج سے پاک ووٹرز لسٹوں کي تياري کے مقدمہ کي سماعت کي تو چيف جسٹس نے ريمارکس دئے کہ عدالت يہاں بيٹھ کر آلودہ پاني کو صاف نہيں کرسکتي، بوگس ووٹوں والي لسٹوں پر انتخابات کيسے ہوں گے. عدالت کو بتاياگياکہ نامکمل اليکشن کميشن کيماتحت ضمني انتخابات کي توثيق کيلئے آئيني ترميم بل ، اسمبلي ميں پيش کردياگياہے. اس پر چيف جسٹس نے ريمارکس ديئے کہ پارليمنٹ کے دونوں ايوانوں کے اجلاس جاري ہيں اور اب بل پيش کرکے يہ تسليم کيا جارہا ہے کہ ضمني اليکشن درست نہيں تھے.

انہوں نے مزيد ريمارکس ديئے کہ اٹارني جنرل نے پہلے دن ہي کہہ دياتھاکہ نامکمل اليکشن کميشن کے ماتحت اليکشن درست نہيں. چيف جسٹس نے اپنے ريمارکس ميں کہا کہ ہوسکتاہے کہ کسي کو ضمني اليکشن سے متعلق آئيني ترميم پر تحفظات بھي نہ ہوں اور ہوسکتا ہے کہ بيسويں آئيني ترميم متفقہ طور پر پاس ہوجائے، سوال يہ ہے کہ آئيني ترميم کا اثر ماضي سے ہوتا ہے يا يہ آئندہ کيلئے ہوتي ہے؟ چيف جسٹس نے مزيد ريمارکس ديئے کہ اسمبلي تو چھوٹي بات ہے، آئين بالادست ہے، ججز سميت عوامي نمائندوں نے آئين کے تحفظ کا حلف اٹھا رکھا ہے، ہم سب کي بقا ، آئين کي بالادستي ميں ہے. جسٹس خلجي عارف نے ريمارکس ديئے کہ ووٹر لسٹ درست نہ ہوتو اس پر اليکشن کرانے ميں بدنيتي شامل ہوجائے گي.بعد ميں کيس کي سماعت6فروري تک ملتوي کر دي گئي......... /169