ابنا: ڈاکٹر علي لاريجاني نے قم ميں چہلم کي مناسبت سے منعقدہ ايک سيمنار ميں خطاب کرتے ہوئے کہاکہ بعض عرب اور مغربي ممالک ميں شام ميں مسلح افراد اور شرپسندوں کے اقدامات کي حمايت کرکے استقامتي قوتوں کو نقصان پہنچانا چاہتے ہيں انہوں نے کہا کہ علاقے کے بعض ممالک جو آمريت کي علامت بن چکے ہيں اور اپنے ملکوں ميں محض نمائشي پارليمنٹ بنار کھي ہے شام ميں جمہوريت کے نفاذ کا مطالبہ کرکے دشمنان اسلام اور عالمي صيہونيزم کا دفاع کررہے ہيں -
اسلامي جمہوريہ ايران کي پارليمنٹ کے اسپيکر نے شام کے صدر بشار اسد کي طرف سے ملک ميں اعلان کردہ اصلاحات کا حوالہ ديتے ہوئے کہاکہ شام ميں اصلاحات کا نفاذ عمل ميں آنا چاہئے اور اس ملک کے عوام کو اپنے مستقبل کے بارے ميں فيصلہ کرنے کا پورا حق ہونا چاہےص ليکن اصلاحات علاقے کي بعض رجعت پسندحکومتوں کي مرضي اور ان کي تيار کردہ نہيں ہوني چاہئيں جو مزاحمتي قوتوں کو ہي ختم کردينے کي سازشوں ميں مصروف ہيں - انہوں نے کہا کہ آج بين الاقوامي فاسد طاقتيں شام ميں گڑ بڑ پھيلا کر غاصب صہيوني حکومت کو فائدہ پہنچانے کي کوشش کررہي ہيں -.......
/169