13 جنوری 2012 - 20:30

اردن کی فوجیں بھی بعض دیگر ممالک میں کرائے کے قاتلوں کا فریضہ سرانجام دینے کے لئے مشہور ہیں اور اب اردن کے بادشاہ ایک ارب ڈالر کی رقم لے کر آل خلیفہ بادشاہ کو عوامی /اسلامی انقلاب سے بچانے کے لئے بحرین میں فوج بھیجنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابقچھوٹی خلیجی ریاست قطر سے حماس کی میزبانی کے عوض ایک ارب ڈالر لے کر گویا شاہ اردن کی قسمت جاگ گئی ہے اور اس کو ایک اور چھوٹی ریاست کے چھوٹے بادشاہ کو بچانے کے عوض ایک ارب ڈالر کی پیشکش کی گئی ہے۔ عرب ٹائمز نے لکھا کہ گویا شاہ اردن کی قیمت ان دنوں خاصی بڑھ گئی ہے اورقطر کو حماس کی میزبانی کا اعزاز دے کر ایک ارب ڈالر کمانے کے بعد بحرین کے آل خلیفہ خاندان کے ولیعہد نے بھی دارالحکومت کے دورے کے دوران اس کو ایک ارب ڈالر کی پیشکش کی ہے۔اردن کا شاہی خاندان جو اسرائیل کی غلامی اور علاقے کے ملکوں میں کرائے کے فوجی بھیجنے کے حوالے سے مشہور ہے اور کبھی بھی اپنی فوج کو اسرائیل کے سامنے لانے کا تصور تک نہیں کرتا بلکہ اس کو اسرائیل کے مفاد میں استعمال کرتا رہا ہے اب آل خلیفہ خاندان کے بادشاہ کو بچانے کے لئے کرائے کے فوجی بھیجنے کی تیاری کررہا ہے جس کے عوض اس کو مزيد ایک ارب ڈالر کی پیشکش ہوئی ہے۔ اس بار وہ بعض دیگر ممالک کے کرائے کے قاتلوں کی صف میں اپنے کرائے کے قاتل شامل کرکے بحرینی عوام کے پرامن انقلاب کو دبانے پر مامور ہوا ہے تا کہ بحرین کے نجدی شیوخ کو بچانے اور ان کے ناجائز اقتدار کی حفاظت میں کردار ادا کرے۔ اردن کے شاہی خاندان کے ریکارڈ میں 15 ستمبر 1970 کو فلسطینی پناہ گزینوں کا قتل عام بھی موجود ہے جس میں بعض دیگر ممالک کے فوجی افسروں نے اپنے نام دنیا اور آخرت کی روسیاہی ثبت کرائی تھی۔آل خلیفہ کے ولیعہد نے دورہ اردن کے دوران ان فوجی دستوں کا معائنہ بھی کیا جنہیں بحرینی عوام کو کچلنے کے لئے بھجوانے کا منصوبہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق بحرین کا ولیعہد ایک مشترکہ منصوبے کے تحت اردن کے دورے پر گیا اور اس منصوبے کا مقصد علاقے کی استبدادی حکومتوں کو درپیش عوامی انقلابات کا مقابلہ کرنا ہے۔

ــ ایران کے خلاف فوجی کاروائی کی آل سعود کی طرف سے مخالفتمشرق وسطی لیگل اور اسٹراٹیجک مرکز کے سربراہ نے کہا: آل سعود سمیت خلیج فارس کی ساحلی ریاستوں کے حکمران خاندان ایران کے خلاف کسی قسم کی فوجی کاروائی اور علاقے میں کسی قسم کی جنگی کیفیت رونما ہونے کے سخت خلاف ہیں۔اطلاعات کے مطابق مشرق وسطی لیگل اور اسٹراٹیجک مرکز کے سربراہ "انور عشقی" نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف کسی قسم کی بیرونی جارحیت کی مخالفت پر مبنی خیالات کئی بار آل سعود کے انٹیلجنس چیف اور اعلی سطحی اہلکاروں کی زبان سے سنے گئے ہیں۔ انھوں نے کہا: آل سعود کے وزیرخارجہ سعود الفیصل نے حال ہی میں امریکہ کا دورہ کیا اور ان کے دورے کا مقصد در حقیقت خلیج فارس کے علاقے میں ایران اور امریکہ کے درمیان موجودہ تناؤ کو کم کرنا تھا۔عشقی نے کہا: علاقے میں جنگ تمام فریقوں کے لئے نقصان دہ ہے اور ایسی صورت میں امریکہ سے لے کر ایران تک سب کو نقصان پہنچے گا لہذا آل سعود کی کوشش علاقے کے تناؤ زدہ حالات کو سدھارنا اور پر سکون بنانے کے لئے ہے۔ انھوں نے علاقے میں ایک دوسرے کے خلاف صف آرا یا حریف قوتوں کے درمیان مذاکرات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ امریکی حکام کے ساتھ سعود الفیصل کے مذاکرات کا موضوع "علاقائی امن و امان" تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/110