اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق بحرینی سیاستدان کریم المحروس نے العالم نیٹ ورک سے بات چیت کرتے ہوئے کہا: بحرینی رکن پارلیمان اسامہ التمیمی نے کہا ہے کہ آل خلیفہ خاندان نے ملک کی پچاس فیصد اراضی پر قبضہ کررکھا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ان کا دعوی حقائق سے متصادم ہے کیونکہ پچھتر فیصد اراضی خلیفی بادشاہ کے نام پر رجسٹرڈ ہیں اور وہ ان اراضی کو اپنی ذاتی ملکیت سمجھتے ہیں اور ان کی رائے یہ ہے کہ بحرینی عوام ان اراضی سے استفادہ کرنے کے حقدار نہیں ہیں۔ بحرین کے سنی رکن پارلیمان جمعیۃ الوعد الوطنی البحرینی "الوعد" کے رکن اسامہ التمیمی نے حال ہی میں آل خلیفہ خاندان پر ملک کی پچھتر فیصد اراضی چوری کرنے کا الزام لگایا ہے اور کہا ہے کہ ان کے پاس اس حوالے سے ناقابل انکار شواہد و دستاویزات موجود ہیں۔ انھوں نے کہا: بحرین کے تمام ساحلی علاقے بھی آل خلیفہ خاندان نے بحق خاندان ضبط کرلئے ہیں جبکہ ساحلی علاقوں کا بہت چھوٹا سا حصہ ابھی تک ان کی دستبرد سے محفوظ رہا ہے۔جمعیۃ الوعد الوطنی البحرینی "الوعد" کے رکن نے کہا: بحرین کو ایک ملک نہیں قرار دیا جاسکتا کیونکہ اس پر حکمفرما قوانین بے بنیاد اور بالکل ظاہری اور نمائشی ہیں۔ دریں اثناء کریم المحروس نے کہا ہے کہ اسامہ التمیمی نے پورا سچ نہیں کہا ہے کیونکہ بحرین کی پچھتر فیصد سے زائد اراضی پر آل خلیفہ خاندان کا باقاعدہ قبضہ ہے اور باقی اراضی پر بھی یہ خاندان مکمل طور پر مسلط ہے۔انھوں نے کہا کہ آل خلیفہ خاندان کی تعداد 2000 افراد سے تجاوز کرچکی ہے اور انھوں نے بحرین کی اراضی کو آپس میں بانٹ لیا ہے۔
یاد رہے کہ اسامہ التمیمی بحرینی پارلیمان میں اہل سنت کے نمائندے ہیں۔........
/169
تفصیل کے لئے روجوع کیجئے:
انقلاب بحرین کا 334واں دن/ پابندسلاسل قائدین کی حمایت میں مظاہرے