اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق بحرینی عوام کا انقلاب زور و شور سے جاری ہے اور آل سعود کی مدد سے آل خلیفہ کے مظالم میں بھی کوئی کمی نہيں آئی۔ دوسری طرف سے آل خلیفہ کے ہاتھوں مساجد کی شہادت کی مذمت کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ذیل میں بحرین میں رونما ہونے والے کل اور آج کے واقعات کی تفصیل ہے جو قارئین و صارفین کی خدمت میں پیش کی جارہی ہے۔ ــ بحرین: بے گناہ اسیروں بالخصوص پابندسلاسل قائدین کی حمایت میں مظاہرےبحرین کے علاقے الدیر کے عوام نے آل خلیفہ کے اذیتکدوں میں قید بے گناہ اسیروں کی حمایت میں مظاہرہ کیا۔موصولہ اطلاعات کے مطابق الدیر کے باشندوں نے کئی دیگر علاقوں کی طرح 14فروری انقلاب کے نوجوانوں کے اتحاد کی اپیل پر بے گناہ اسیروں بالخصوص خلیفی اذیتکدوں میں اسیر قائدین انقلاب کی کے حق میں ریلی نکالی اور ان کی فور رہائی کا مطالبہ کیا۔ قبل ازین سترہ کے عوام نے اسیر عالم دین شیخ حسن المشیمع کی رہائی کے لئے مظاہرہ کیا تھا۔
ــ بحرین: ایک شیعہ نوجوان لاپتہ ہوگیا 24 سالہ نوجوان یوسف احمد عباس کل صبح القلالی کے علاقے میں اپنے گھر سے نکلا اور شام تک گھر نہیں آیا۔ اطلاعات کے مطابق لاپتہ نوجوان کے اہل خانہ نے المحرق کے پولیس مرکز میں اس کے لاپتہ ہونے کی رپورٹ درج کرائی ہے اور پولیس والوں نے دعوی کیا ہے کہ یوسف احمد عباس کی بازیابی کے لئے وسیع تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔عباس کے ایک قریبی رشتہ دار نے کہا کہ عباس بہت بے ضرر سا نوجوان ہے اور کم ہی اپنے گھر سے باہر نکلتا ہے اسی لئے اس کے لاپتہ ہونے کے بعد اس کے اہل خانہ نے تمام اسپتالوں اور پولیس اسٹیشنز کے چکر کاٹ لئے ہیں لیکن ان کی تلاش کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا ہے۔ چنانچہ عباس کے اہل خانہ نے شہریوں سے درخواست کی ہے کہ ان کے نوجوان فرزند کی تلاش میں ان کی مدد کریں۔ واضح رہے کہ فروری 2011 میں انقلاب بحرین کے آغاز سے اب تک درجنوں بحرینی شہری لاپتہ ہوئے ہیں اور لاپتہ افراد کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے۔ بحرینی ذرائع کا کہنا ہے کہ بعض لاپتہ افراد کی لاشیں کئی دن بعد ملی ہیں جبکہ ان کے جسموں پر تشدد کے نشانات بڑے واضح تھے۔
ــ بحرین میں انسانی حقوق کی پامالی روز افزوں ہےاقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن کے ایک اہلکار نے بحرین میں انسانی حقوق کی روز افزوں پامالی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اس ملک میں عدل کے قیام اور انسانی حقوق پامال کرنے والے حکام پر مقدمہ چلانے کی ضرورت پر زور دیا۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن میں عرب ڈیسک کے سربراہ "فَرَج فِنيش" نے حال ہی میں انسانی حقوق کمیشن کی طرف سے بحرین کا دورہ کرنے کے بعد تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بحرین میں عوام اور حکومت کے درمیان وسیع خلیج حائل ہوچکی ہے۔ فنیش نے کہا: میں نے بحرین میں معاشرتی خلیج مشاہدہ کیا اور میں نے دیکھا کہ عوامی تنظیمیں، انسانی حقوق کے شعبے میں فعال کارکن اور عوام ملک کی افسوسناک صورت حال، سرکاری تشدد اور انسانی حقوق کی پامالیوں کی وجہ سے شدید تشویش میں مبتلا ہیں۔انھوں نے بحرین میں تمام فریقوں کا اعتماد بحال کرنے پر زور دیتے ہوئے آل خلیفہ حکومت کو خبردار کیا کہ وہ اپنی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی جزئی سفارشات پر عملدرآمد کرنے کی کوششیں ترک کردے جبکہ وہ عوامی مطالبات کو تسلیم کرنے کے لئے تیار ہی نہیں ہے۔ انھوں نے کہا: آل خلیفہ ایسے حال میں اپنی کمیشن کی ناچیز اور ناکافی تجاویز پر عملدرآمد کی تیاری کررہی ہے جبکہ بحرینی عوام حکومت کے کسی بھی اقدام پر مزید اعتماد کرنے کے لئے تیار نہيں ہیں۔ انھوں نے حکام کی بازخواست پر زور دیتے ہوئے کہا: بحرینی عوام نے مارچ 2011 میں اپنی تحریک کا آغاز کیا لیکن اس ملک کی صورت حال مارچ 2011 سے بہتر نہیں ہوئی ہے بلکہ حالات وہی پرانے ہیں سینکڑوں افراد پابند سلاسل ہیں اور ہزاروں کام کاج سے محروم کردیئے گئے ہیں اور غیر سرکاری تنظیموں کو آزادی کے ساتھ کام کرنے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے اور کسی عوامی مطالبے پر عملدرآمد نہیں ہوا ہے۔ انھوں نے کہا: بحرین میں آج بھی ہر روز درجنوں افراد گرفتار کئے جاتے ہیں اور ہر روز متعدد ریلیاں منعقد ہوتی ہیں لیکن آل خلیفہ کی طرف سے پر امن مظاہروں کو دبانے کے لئے طاقت کا انتہاپسندانہ استعمال ہوتا ہے اور تشدد میں انتہاپسندی کا سہارا لیا جاتا ہے جس کی وجہ سے درجنوں افراد مارے جاتے ہیں باقی گرفتار کیا جاتا ہے۔ انھوں نے کہا: اقوام متحدہ کا انسانی حقوق کمیشن بحرین میں اپنا نمائندہ دفتر کھولنے کے لئے پوری طرح تیار ہے بشرطیکہ اس ملک میں انسانی حقوق کی صورت حال کی نگرانی اور اس حوالے سے تیار ہونے والی رپورٹیں اقوام متحدہ کو ارسال کرنے کے امکانات فراہم ہوجائیں۔
ــ بحرین: آل خلیفہ مغرب اور صہیونیت کا کٹھ پتلیبحرین کے چودہ فرورہ انقلابی اتحاد نے صہیونی ریاست سے مل کر ایران کے خلاف خلیفی بادشاہ کے معاندانہ موقف کی مذمت کرتے ہوئے آل خلیفہ خاندان کو مغرب اور صہیونیوں کا کٹھ پتلی قرار دیا۔اطلاعات کے مطابق بحرین کے 14 فروری انقلابی اتحاد نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ شیخ حمد بن عیسی آل خلیفہ نے ایران کو آل خلیفہ حکومت اور صہیونی ریاست کا مشترکہ دشمن قرار دیا ہے اور یہ خلیفی بادشاہ کی بے بصیرتی کی علامت ہے۔انقلابی اتحاد نے کہا ہے کہ خلیفی بادشاہ کا حالیہ موقف اس حقیر مجرم کے اندھادھند اور بے مقصد تفکرات کی علامت ہے اور یہ موقف ایسے شخص کی طرف سے سامنے آیا ہے جو اصلاحات کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔14 فروری اتحاد نے کہا ہے کہ حمد بن عیسی آل خلیفہ صہیونیوں، امریکیوں، انگریزوں اور آل سعود کا کٹھ پتلی ہے جو اقتدار میں رہنے کے لئے کسی قسم کے جرم کے ارتکاب سے دریغ نہیں کرتا۔ اتحاد نے کہا ہے: حمد بن عیسی نے یہ ذلت آمیز موقف ایسے حال میں اپنایا ہے کہ مغربی طاقتیں ایران کے خلاف صف آرا ہوگئی ہیں اور آل خلیفہ خاندان عوام سے نجات پانے کے لئے امریکہ اور اسرائیل کے سامنے سر بسجود ہوگیا ہے اور اس کو امید ہے کہ گویا امریکہ اور اسرائیل اس کے نابودی سے نجات دلائیں گے۔ اس بیان میں آیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران واحد قوت ہے جو فلسطینی کاز اور عرب ملکوں کے حریت پسندوں کی حمایت کرتی نظر آتی ہے اور ایران واحد ملک ہے جو عرب اور اسلامی ملتوں کا حامی ہے اور حمد بن عیسی کی طرح کا ایک حقیر ڈکٹیٹر علاقے کے ایک عظیم ملک اور عظیم طاقت کو کیونکر ہمارے ملک کا دشمن قرار دے سکتا ہے!۔اتحاد نے اپنے بیان کے آخر میں کہا ہے: یہ جو امریکہ اور اسرائیل ایران سے خوفزدہ ہیں اور اس کی ترقی کی راہ میں مختلف طریقوں سے روڑے اٹکا رہے ہیں یہ الگ بات ہے لیکن یہ جو بحرین کا بدعنوان حکمران صہیونیوں کا ساتھ دیتا ہے یہ واقعی افسوسناک امر ہے۔
ــ بحرین: گھڑ دوڑ کے اسیر بین الاقوامی ریفری کے ساتھ آل خلیفہ کی بدسلوکیگھڑ دوڑ کے اسیر بین الاقوامی ریفری آل خلیفہ کی فوجی عدالت کی جانب سے عوامی احتجاج میں شرکت کے الزام میں تین سال قید کے مستحق قرار پائے ہیں۔اطلاعات کے مطابق گھڑ دوڑ کے اسیر بین الاقوامی ریفری محمود عبدالصاحب احمد حسن البقلاوه مارچ 2011 میں عوامی احتجاج میں شرکت کی بنا پر خلیفی جلادوں کے ہاتھوں گرفتار ہوئے تھے اور خلیفی فوجی عدالت نے ان کو تین سال قید کی سزا سنائی ہے۔محمود عبدالصاحب احمد حسن البقلاوه کے اہل خانہ نے ذرائع ابلاغ کو بتایا ہے کہ انہیں خلیفی اذیتکدوں میں تشدد اور بدسلوکی کا سامنا ہے۔انھوں نے کہا کہ البقلاوہ پر لگائے گئے تمام الزامات بیان کی آزادی سے تعلق رکھتے ہیں اور فوجی عدالت نے ان ہی الزامات کی بنا پر انہیں قید کی سزا سنائی ہے۔ آل خلیفہ کے زیر قبضہ روزنامے "الوسط" نے لکھا ہے کہ خلیفی اٹارنی جنرل نے بیان کی آزادی کے حوالے سے لگائے گئے تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان الزامات کی بنا پر کسی کو قید نہیں کیا جاسکتا چنانچہ عبدالصاحب کے اہل خانہ کو اب بھی ان کی رہائی کی امید ہے۔البقلاوہ کے اہل خانہ نے کہا ہے کہ خلیفی سیکورٹی والوں نے ان کی گرفتاری کے چند ہی روز بعد ان کے گھر پر چھاپہ مارا اور ان کا ذاتی کمپیوٹر، کیمرا، تصاویر کی البمز اور ان کے قیمتی سامان کو لوٹ کر لے گئیں۔اس رپورٹ کے مطابق البقلاوہ کو قید کے دوران شدید ترین ٹارچر اور بدسلوکی کا نشانہ بنایا گیا ہے اور خلیفی بادشاہ کی طرف سے تشکیل یافتہ فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی نے بھی ان کے ساتھ خلیفیوں کی بدسلوکی کی تصدیق کی ہے۔ البقلاوہ بین الاقوامی ہارس ریسنگ ایسوسی ایشن کے رکن اور بین الاقوامی ریفری، بحرین کی ہارس ریسنگ کے نگران اور عرب ہارس کی بین الاقوامی ادارے نیز عرب ہارس کی بین الاقوامی ایسوسی ایشن کے رکن ہیں۔ البقلاول بحرین کی تاریخ و آثار قدیمہ، خلیج فارس تعاون کونسل کی تاریخ و آثار قدیمہ سوسائٹی نیز عرب فوٹوگرافرز ایسویسی ایشن کے بھی رکن ہیں۔
ــ بحرین: منامہ میں اقوام متحدہ کے دفتر کے سامنے عظیم دھرنابحرینی عوام نے منگل کے روز اس ملک میں انسانی آزادیوں کی پامالی پر دارالحکومت منامہ میں اقوام متحدہ کے دفتر کے سامنے احتجاجی دھرنا دیا۔اطلاعات کے مطابق ہزاروں بحرینی عوام نے سیاسی اور سماجی تنظیموں اور جماعتوں کی دعوت پر اقوام متحدہ کے دفتر کے سامنے احتجاجی دھرنا دیا۔ یہ دھرنا 7 جنوری کو خلیج توبلی میں عوامی مظاہرے پر خلیفی جلادوں کے تشدد کے نتیجے میں منعقد ہوا۔ دھرنا دینے والوں نے اقوام متحدہ کو یادداشت بھی پیش کی جس میں انھوں نے آل خلیفہ خاندان کی طرف سے مخالفین کو جبر و تشدد بنائے جانے، پرامن سرگرمیوں پر خلیفیوں کی پابندی اور آزادی کی پامالی کی وجہ سے وجود میں آنے والے گھٹن کی شکایت کرتے ہوئے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ آل خلیفہ حکومت کے خلاف باضابطہ قانونی کاروائی کرتے ہوئے عوام کو ان کے جائز حقوق دلوا دے۔حالیہ ہفتے کے دوران 14 فروری انقلابی اتحاد کی اپیل پر ملک بھر میں راتوں کو ریلیاں نکالی جاتی رہیں۔ اطلاعات کے مطابق آل خلیفہ حکومت ملک کے مختلف علاقوں میں ہونے والے مظاہروں کو کچلنے کے لئے زہریلی گیسیں استعمال کرتی ہے اور ان کے گھروں میں گیس شیلز پھینکتی ہے۔
ــ بحرین: بحرین میں سیاسی نظام کی تبدیلی کا مطالبہ کریم المحروس: منگل 10 جنوری 2012 کو اقوام متحدہ کے دفتر کے سامنے دھرنا درحقیقت بحرین میں سیاسی نظام کی تبدیلی کا مطالبہ تھا۔اطلاعات کے مطابق بحرین کے سیاستدان و قلمکار کریم المحروس نے کہا کہ آل خلیفہ حکومت عوامی مطالبات کا جواب نہیں دے رہی ہے چنانچہ ہزاروں بحرینیوں نے 10 جنوری کو اقوام متحدہ کے دفتر کے سامنے دھرنا دے کر ملک کے سیاسی نظام کی تبدیلی کا مطالبہ کیا۔انھوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے دفتر کے سامنے دھرنے جیسے بعض دھر